کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: شعبی کی، سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام وراد کے واسطے سے، سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ طَالِبٍ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ شِبَاكٍ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، عَنْ وَرَّادٍ، مَوْلَى الْمُغِيرَةِ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا انْصَرَفَ مِنْ صَلَاتِهِ قَالَ: «لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ، وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، اللهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ»
ترجمہ
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب نماز سے فارغ ہوتے تو فرماتے: ”اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہت ہے اور اسی کے لیے تمام تعریفیں ہیں، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اے اللہ! جو تو دے اسے کوئی روکنے والا نہیں، اور جو تو روک لے اسے کوئی دینے والا نہیں، اور کسی بزرگی والے کو اس کی بزرگی تیرے مقابلے میں کوئی فائدہ نہیں دیتی۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْقَطِرَانِيُّ، وَعُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّيُّ، قَالَا: ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ رَاشِدٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا هُشَيْمٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، وَزَكَرِيَّا، وَإِسْمَاعِيلَ، وَمُجَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ وَرَّادٍ، قَالَ: كَتَبَ مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ إِلَى الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ: أَنِ اكْتُبْ إِلَيَّ بِشَيْءٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَكَتَبَ إِلَيْهِ الْمُغِيرَةُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ عِنْدَ انْصِرَافِهِ مِنَ الصَّلَاةِ: «لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، اللهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ، وَكَانَ يَنْهَى عَنْ قِيلَ وَقَالَ، وَكَثْرَةِ السُّؤَالِ، وَإِضَاعَةِ الْمَالِ، وَعَنْ مَنَعَ وَهَاتِ، وَعُقُوقِ الْأُمَّهَاتِ، وَوَأْدِ الْبَنَاتِ»
ترجمہ
معاویہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ کو لکھا: مجھے کوئی ایسی بات لکھ بھیجو جو تم نے رسول اللہ ﷺ سے سنی ہو۔ تو مغیرہ رضی اللہ عنہ نے انہیں لکھا کہ رسول اللہ ﷺ نماز سے فارغ ہوتے وقت فرماتے: ”اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہت ہے اور اسی کے لیے تمام تعریفیں ہیں، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اے اللہ! جو تو دے اسے کوئی روکنے والا نہیں، اور جو تو روک لے اسے کوئی دینے والا نہیں، اور کسی بزرگی والے کو اس کی بزرگی تیرے مقابلے میں کوئی فائدہ نہیں دیتی۔“ اور آپ ﷺ بے سروپا باتیں کرنے، بکثرت سوال کرنے، مال ضائع کرنے، اور نہ دینے اور مانگتے رہنے، ماؤں کی نافرمانی، اور بیٹیوں کو زندہ دفن کرنے سے منع فرمایا کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي يَعْقُوبَ الْكَرْمَانِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، ثنا هُشَيْمٌ، عَنْ دَاوُدَ، وَمُجَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ وَرَّادٍ، كَاتَبِ الْمُغِيرَةِ، عَنِ الْمُغِيرَةِ قَالَ: كَتَبَ إِلَيْهِ مُعَاوِيَةُ: أَنِ اكْتُبْ إِلَيَّ بِشَيْءٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ انْصِرَافِهِ مِنَ الصَّلَاةِ، فَقَالَ: «لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ، وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، اللهُمَّ لَا مَانِعَ لِما أَعْطَيْتَ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ»
ترجمہ
وراد، سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ کے کاتب، ان سے روایت کرتے ہیں: معاویہ رضی اللہ عنہ نے انہیں لکھا: مجھے کوئی ایسی بات لکھ بھیجو جو تم نے رسول اللہ ﷺ سے نماز سے فارغ ہوتے وقت سنی ہو، تو انہوں نے کہا: ”اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہت ہے اور اسی کے لیے تمام تعریفیں ہیں، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اے اللہ! جو تو دے اسے کوئی روکنے والا نہیں، اور جو تو روک لے اسے کوئی دینے والا نہیں، اور کسی بزرگی والے کو اس کی بزرگی تیرے مقابلے میں کوئی فائدہ نہیں دیتی۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْحُسَيْنِ الْمِصِّيصِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى الْأَشْيَبُ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ الطُّوسِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى الْأَشْيَبُ، ثنا شَيْبَانُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ وَرَّادٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا انْصَرَفَ مِنَ الصَّلَاةِ قَالَ: «لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ، وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، اللهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ»
ترجمہ
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب نماز سے فارغ ہوتے تو فرماتے: ”اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہت ہے اور اسی کے لیے تمام تعریفیں ہیں، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اے اللہ! جو تو دے اسے کوئی روکنے والا نہیں، اور جو تو روک لے اسے کوئی دینے والا نہیں، اور کسی بزرگی والے کو اس کی بزرگی تیرے مقابلے میں کوئی فائدہ نہیں دیتی۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ح وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَا: ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، حَدَّثَنِي ابْنُ الْأَشْوَعِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، حَدَّثَنِي كَاتَبُ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ: كَتَبَ مُعَاوِيَةُ إِلَى الْمُغِيرَةِ: أَنِ اكْتُبْ إِلَيَّ بِشَيْءٍ سَمِعْتَهُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ: إِنِّي سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ» اللهَ كَرِهَ لَكُمْ ثَلَاثًا: قِيلَ وَقَالَ، وَكَثْرَةَ السُّؤَالِ، وَإِضَاعَةَ الْمَالِ "
ترجمہ
معاویہ رضی اللہ عنہ نے مغیرہ رضی اللہ عنہ کو لکھا: مجھے کوئی ایسی بات لکھ بھیجو جو تم نے نبی کریم ﷺ سے سنی ہو، تو انہوں نے انہیں لکھا: میں نے نبی کریم ﷺ کو فرماتے سنا: ”بے شک اللہ نے تمہارے لیے تین چیزیں ناپسند فرمائی ہیں: بے سروپا باتیں کرنا، بکثرت سوال کرنا، اور مال ضائع کرنا۔“
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَائِلَةَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عِمْرَانَ، ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَا: ثنا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ وَرَّادٍ، مَوْلَى الْمُغِيرَةِ، عَنِ الْمُغِيرَةِ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ حَرَّمَ عَلَيْكُمْ عُقُوقَ الْأُمَّهَاتِ، وَوَأْدَ الْبَنَاتِ، وَمَنَعَ وَهَاتِ، وَكَرِهَ لَكُمْ قِيلَ وَقَالَ، وَكَثْرَةَ السُّؤَالِ، وَإِضَاعَةَ الْمَالِ»
ترجمہ
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”بے شک اللہ عزوجل نے تم پر ماؤں کی نافرمانی، بیٹیوں کو زندہ دفن کرنا، اور نہ دینا اور مانگتے رہنا حرام کیا ہے، اور تمہارے لیے بے سروپا باتیں کرنا، بکثرت سوال کرنا، اور مال ضائع کرنا ناپسند فرمایا ہے۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْحَسَنِ الْمِصِّيصِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى الْأَشْيَبُ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ الطُّوسِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى الْأَشْيَبُ، ثنا شَيْبَانُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ وَرَّادٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ» اللهَ تَعَالَى كَرِهَ قِيلَ وَقَالَ، وَكَثْرَةَ السُّؤَالِ، وَإِضَاعَةَ الْمَالِ، وَنَهَى عَنْ وَأْدِ الْبَنَاتِ، وَعُقُوقِ الْأُمَّهَاتِ، وَمَنَعَ وَهَاتِ "
ترجمہ
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ نے بے سروپا باتیں کرنا، بکثرت سوال کرنا، اور مال ضائع کرنا ناپسند فرمایا ہے، اور بیٹیوں کو زندہ دفن کرنے اور ماؤں کی نافرمانی سے منع فرمایا ہے، اور نہ دینے اور مانگتے رہنے سے بھی۔“
حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الدِّمَشْقِيُّ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا شَيْبَانُ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَبَّاسِ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا أَبُو مَسْعُودٍ أَحْمَدُ بْنُ الْفُرَاتِ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، ثنا شَيْبَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ وَرَّادٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللهَ كَرِهَ لَكُمْ ثَلَاثًا: قِيلَ وَقَالَ، وَكَثْرَةَ السُّؤَالِ، وَإِضَاعَةَ الْمَالِ، وَحَرَّمَ عُقُوقَ الْأُمَّهَاتِ، وَوَأْدَ الْبَنَاتِ، وَمَنَعَ وَهَاتِ "
ترجمہ
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک اللہ نے تمہارے لیے تین چیزیں ناپسند فرمائی ہیں: بے سروپا باتیں کرنا، بکثرت سوال کرنا، اور مال ضائع کرنا، اور ماؤں کی نافرمانی، بیٹیوں کو زندہ دفن کرنا، اور نہ دینے اور مانگتے رہنے کو حرام قرار دیا ہے۔“
حَدَّثَنَا أَبُو حُصَيْنٍ الْقَاضِي، ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ وَرَّادٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
ترجمہ
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے بھی اسی جیسی حدیث مروی ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ زُهَيْرٍ التُّسْتَرِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ سُفْيَانَ الْجُنْدِيسَابُورِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْجَهْمِ، ثنا عَمْرُو بْنُ أَبِي قَيْسٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ وَرَّادٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَى نَفَرٍ مِنَ الْأَنْصَارِ يَرْمُونَ حَمَامَةً، فَقَالَ: «لَا تَتَّخِذُوا الرُّوحَ غَرَضًا»
ترجمہ
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ انصار کے کچھ لوگوں کے پاس سے گزرے جو ایک کبوتر پر نشانہ بازی کر رہے تھے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کسی جاندار کو نشانہ مت بناؤ۔“