کتب حدیثالمعجم الكبير للطبرانيابوابباب: سیدنا مغیرہ بن شعبہ ثقفی رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحِيمِ الْبَرْقِيُّ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ هِشَامٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، قَالَ: «الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ بْنِ أَبِي عَامِرِ بْنِ مَسْعُودِ بْنِ مُعَتِّبِ بْنِ مَالِكِ بْنِ كَعْبِ بْنِ عَمْرِو بْنِ مَعْدِ بْنِ عَوْفِ بْنِ قَيْسِ بْنِ مُنَبِّهٍ يُكْنَى أَبَا عَبْدِ اللهِ، أُمُّهُ امْرَأَةٌ مِنْ بَنِي نَصْرِ بْنِ مُعَاوِيَةَ، وَلِيَ الْبَصْرَةَ نَحْوًا مِنْ سَنَتَيْنِ، ثُمَّ وَلِيَ الْكُوفَةَ وَمَاتَ بِهَا سَنَةَ خَمْسِينَ. أَوَّلُ مَشَاهِدِهِ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحُدَيْبِيَةُ»
ترجمہ
ابوعبیدہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بن ابی عامر بن مسعود بن معتب بن مالک بن کعب بن عمرو بن معد بن عوف بن قیس بن منبہ، کنیت ابوعبداللہ، ان کی والدہ بنو نصر بن معاویہ کی ایک خاتون تھیں۔ انہوں نے تقریباً دو سال بصرہ کی حکومت کی، پھر کوفہ کے والی بنے اور وہیں پچاس ہجری میں وفات پائی۔ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ان کا پہلا غزوہ حدیبیہ تھا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الميم / حدیث: 17980
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 366، حدیث 855
حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنْبَاعِ رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ قَالَ: «تُوُفِّيَ الْمُغِيرَةُ سَنَةَ خَمْسِينَ»
ترجمہ
یحییٰ بن بکیر رحمہ اللہ کہتے ہیں: سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ کی وفات پچاس ہجری میں ہوئی۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الميم / حدیث: 17981
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 367، حدیث 856
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ شَبِيبٍ الْعَسَّالُ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَمْرٍو الْبَجَلِيُّ، ثنا حَبَّانُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: «بَعَثَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَوَّلَ مَا بَعَثَ إِلَى الْكُوفَةِ أَبَا عُبَيْدٍ الثَّقَفِيَّ - أَبَا الْمُخْتَارِ - فَقُتِلَ، فَبَعَثَ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ فَمَكَثَ خَمْسَ سِنِينٍ ثُمَّ نَزَعَهُ، ثُمَّ بَعَثَ عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ فَمَكَثَ سَنَةً، ثُمَّ نَزَعَهُ، وَبَعَثَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ فَمَكَثَ سَنَةً، ثُمَّ قُتِلَ عُمَرُ، فَلَمَّا وُلِّيَ عُثْمَانُ بَعَثَ سَعْدًا إِلَى الْكُوفَةِ فَمَكَثَ سَنَةً ثُمَّ نَزَعَهُ، وَبَعَثَ الْوَلِيدَ بْنَ عُقْبَةَ فَمَكَثَ خَمْسَ سِنِينٍ ثُمَّ نَزَعَهُ، وَبَعَثَ سَعِيدَ بْنَ الْعَاصِ فَمَكَثَ خَمْسَ سِنِينٍ ثُمَّ نَزَعَهُ، وَبَعَثَ أَبَا مُوسَى الْأَشْعَرِيَّ فَمَكَثَ سَنَةً، ثُمَّ قُتِلَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَكَانَتِ الْفِتْنَةُ، ثُمَّ كَانَ أَوَّلَ مَنْ أَمَّرَهُ مُعَاوِيَةُ عَلَى الْكُوفَةِ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ تِسْعَ سِنِينٍ ثُمَّ مَاتَ، ثُمَّ بَعَثَ زِيَادَ بْنَ أَبِيهِ فَمَكَثَ أَرْبَعَ سِنِينٍ ثُمَّ مَاتَ، فَبَعَثَ الضَّحَّاكَ بْنَ قَيْسٍ فَمَكَثَ ثَلَاثَ سِنِينٍ ثُمَّ نَزَعَهُ، ثُمَّ بَعَثَ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ فَمَكَثَ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ ثُمَّ هَلَكَ مُعَاوِيَةُ وَكَانَتِ الْفِتْنَةُ، ثُمَّ كَانَ أَمَرُ مُسْلِمِ بْنِ عَقِيلٍ وَأَصْحَابِهِ»
ترجمہ
الشعبی رحمہ اللہ کہتے ہیں: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے سب سے پہلے کوفہ کی طرف ابوعبید ثقفی - ابومختار - کو بھیجا، تو وہ شہید ہو گئے۔ پھر سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو بھیجا، وہ پانچ سال رہے پھر انہیں معزول کر دیا۔ پھر عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو بھیجا، وہ ایک سال رہے پھر معزول کر دیا۔ پھر مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کو بھیجا، وہ ایک سال رہے، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے۔ جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے تو انہوں نے سعد کو دوبارہ کوفہ بھیجا، وہ ایک سال رہے پھر انہیں معزول کر دیا، پھر ولید بن عقبہ کو بھیجا، وہ پانچ سال رہے پھر معزول کر دیا، پھر سعید بن عاص کو بھیجا، وہ پانچ سال رہے پھر معزول کر دیا، پھر ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو بھیجا، وہ ایک سال رہے، پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے اور فتنہ برپا ہو گیا۔ پھر سب سے پہلے جسے معاویہ رضی اللہ عنہ نے کوفہ پر امیر بنایا وہ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ تھے، وہ نو سال رہے پھر وفات پا گئے۔ پھر زیاد بن ابیہ کو بھیجا، وہ چار سال رہے پھر وفات پا گئے، تو ضحاک بن قیس کو بھیجا، وہ تین سال رہے پھر معزول کر دیا، پھر نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کو بھیجا، وہ چار مہینے رہے پھر معاویہ رضی اللہ عنہ کی وفات ہو گئی اور فتنہ برپا ہو گیا، پھر مسلم بن عقیل اور ان کے ساتھیوں کا معاملہ پیش آیا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الميم / حدیث: 17982
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 367، حدیث 857