کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: حکم اعرج کی سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا خَالِدٌ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنِ الْحَكَمِ الْأَعْرَجِ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ: «بَايَعْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ وَأَنَا أَرْفَعُ غُصْنَ الشَّجَرَةِ عَنْ وَجْهِهِ، فَبَايَعْنَاهُ عَلَى أَنْ لَا نَفِرَّ وَلَمْ نُبَايِعْهُ عَلَى الْمَوْتِ» ، فَقُلْنَا لَهُ: كَمْ كُنْتُمْ؟ قَالَ: أَلْفٌ وَأَرْبَعُمِائَةٍ
ترجمہ
سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ”ہم نے حدیبیہ کے دن رسول اللہ ﷺ سے بیعت کی جبکہ میں آپ ﷺ کے چہرے سے درخت کی شاخ ہٹا رہا تھا، ہم نے آپ ﷺ سے اس بات پر بیعت کی کہ ہم بھاگیں گے نہیں، اور ہم نے آپ ﷺ سے موت پر بیعت نہیں کی تھی۔“ ہم نے ان سے پوچھا: آپ لوگ کتنے تھے؟ انہوں نے کہا: ایک ہزار چار سو۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَائِلَةَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ رَاهَوَيْهِ، ثنا أَبِي، قَالَا: ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، ثنا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ: «كُنْتُ رَافِعًا أَغْصَانَ الشَّجَرَةِ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،» فَبَايَعَ النَّاسُ عَلَى أَنْ لَا يَفِرُّوا " وَهُمْ يَوْمَئِذٍ أَلْفٌ وَأَرْبَعُمِائَةٍ
ترجمہ
سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ”میں رسول اللہ ﷺ کے اوپر سے درخت کی شاخیں اٹھائے ہوئے تھا،“ تو لوگوں نے اس بات پر بیعت کی کہ وہ بھاگیں گے نہیں، اور اس دن وہ ایک ہزار چار سو تھے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْحِنَّائِي، ثنا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ: «لَقَدْ رَأَيْتُنِي يَوْمَ الشَّجَرَةِ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» يُبَايِعُ النَّاسَ، وَأَنَا رَافِعٌ غُصْنًا مِنْ أَغْصَانِهَا عَنْ رَأْسَهِ، لَمْ نُبَايِعْهُ عَلَى الْمَوْتِ، وَلَكِنْ بَايَعْنَاهُ عَلَى أَنْ لَا نَفِرَّ "
ترجمہ
سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ”میں نے خود کو درخت والے دن دیکھا جب نبی کریم ﷺ لوگوں سے بیعت لے رہے تھے، اور میں اس کی ایک شاخ آپ ﷺ کے سر سے ہٹا رہا تھا، ہم نے آپ ﷺ سے موت پر بیعت نہیں کی تھی، بلکہ ہم نے اس بات پر بیعت کی تھی کہ ہم بھاگیں گے نہیں۔“