حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْمُؤَدِّبُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ الْعِجْلِيُّ، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ: كُنْتُ رِدْفَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لِي: «يَا مُعَاذُ، تَدْرِي مَا حَقُّ اللهِ عَلَى الْعِبَادِ؟» قُلْتُ: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: «يَعْبُدُونَهُ وَلَا يُشْرِكُونَ بِهِ شَيْئًا» ثُمَّ قَالَ لِي: «يَا مُعَاذُ، وَمَا حَقُّ الْعِبَادِ عَلَى اللهِ إِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ؟» قُلْتُ: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: «أَنْ لَا يُعَذِّبَهُمْ»
ترجمہ
…محمد بن عباس مؤدب کے واسطے سے، وہ عبداللہ بن صالح عجلی سے، وہ اسرائیل سے، وہ ابوحصین سے، وہ اسود بن ہلال سے، وہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، وہ بیان کرتے ہیں: میں رسول اللہ ﷺ کے پیچھے سوار تھا، تو آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”اے معاذ! کیا تمہیں معلوم ہے کہ بندوں پر اللہ کا کیا حق ہے؟“ میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ اس کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرائیں“، پھر مجھ سے فرمایا: ”اے معاذ! اور بندوں کا اللہ پر کیا حق ہے جب وہ ایسا کر لیں؟“ میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ کہ وہ انہیں عذاب نہ دے۔“
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ثنا مُحْرِزُ بْنُ عَوْنٍ، ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَلَوِيَّةَ الْقَطَّانُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عِيسَى الْعَطَّارُ قَالَا: ثنا خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ: كُنْتُ رِدْفَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى حِمَارٍ، فَقَالَ لِي: «يَا مُعَاذُ بْنَ جَبَلٍ، مَا حَقُّ اللهِ عَلَى الْعِبَادِ؟» قُلْتُ: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ: «أَنْ يَعْبُدُوهُ وَلَا يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا» ثُمَّ قَالَ لِي: «يَا مُعَاذُ، مَا حَقُّ الْعِبَادِ عَلَى اللهِ إِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ؟» قُلْتُ: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: «أَنْ لَا يُعَذِّبَهُمْ»
ترجمہ
…ابومالک اشجعی کے واسطے سے، وہ ابوحصین سے، وہ اسود بن ہلال سے، وہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، وہ بیان کرتے ہیں: میں رسول اللہ ﷺ کے پیچھے ایک گدھے پر سوار تھا، تو آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”اے معاذ بن جبل! بندوں پر اللہ کا کیا حق ہے؟“ میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ کہ وہ اس کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرائیں“، پھر مجھ سے فرمایا: ”اے معاذ! اور بندوں کا اللہ پر کیا حق ہے جب وہ ایسا کر لیں؟“ میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ کہ وہ انہیں عذاب نہ دے۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ نَاجِيَةَ، ثنا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى السِّينَانِيُّ، عَنْ أَبِي سَعْدٍ الْبَقَّالِ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا مُعَاذُ، تَدْرِي مَا حَقُّ اللهِ عَلَى الْعَبِيدِ؟» قُلْتُ: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ: «أَنْ تَعْبُدُوهُ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا، هَلْ تَدْرِي مَا حَقُّ الْعِبَادِ عَلَى اللهِ إِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ؟ أَنْ لَا يُعَذِّبَهُمْ»
ترجمہ
…فضل بن موسیٰ سینانی کے واسطے سے، وہ ابوسعد بقال سے، وہ ابوحصین سے، وہ اسود بن ہلال سے، وہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے معاذ! کیا تمہیں معلوم ہے کہ بندوں پر اللہ کا کیا حق ہے؟“ میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ کہ تم اس کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراؤ، کیا تمہیں معلوم ہے کہ جب وہ ایسا کر لیں تو بندوں کا اللہ پر کیا حق ہے؟ یہ کہ وہ انہیں عذاب نہ دے۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ: كُنْتُ رِدْفَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «يَا مُعَاذُ، هَلْ تَدْرِي مَا حَقُّ اللهِ عَلَى الْعِبَادِ؟» فَذَكَرَ الْحَدِيثَ
ترجمہ
…عبداللہ بن احمد بن حنبل کے واسطے سے، کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، وہ عبدالرحمٰن بن مہدی سے، وہ سفیان سے، وہ ابوحصین سے، وہ اسود بن ہلال سے، وہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، وہ بیان کرتے ہیں: میں رسول اللہ ﷺ کے پیچھے سوار تھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے معاذ! کیا تمہیں معلوم ہے کہ بندوں پر اللہ کا کیا حق ہے؟“ … پھر پوری حدیث بیان کی۔