کتب حدیثالمعجم الكبير للطبرانيابوابباب: یونس بن میسرہ بن حلبس کی سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمُعَلَّى الدِّمَشْقِيُّ، ثنا صَفْوَانُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ مَيْسَرَةَ بْنِ حَلْبَسَ، عَنْ مُعَاوِيَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تُقَدَّسُ أُمَّةٌ لَا يُقْضَى فِيهَا بِالْحَقِّ وَيَأْخُذُ الضَّعِيفُ حَقَّهُ مِنَ الْقَوِيِّ غَيْرَ مُتَعْتَعٍ»
ترجمہ
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”وہ امت پاکیزہ نہیں قرار پاتی جس میں حق کے مطابق فیصلہ نہ کیا جائے اور کمزور اپنا حق طاقتور سے بلا رکاوٹ نہ لے سکے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الميم / حدیث: 16952
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 385، حدیث 903
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمُعَلَّى الدِّمَشْقِيُّ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبْدُوسِ بْنِ جَرِيرٍ الصُّورِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدِّمَشْقِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الْوَاسِطِيُّ، قَالُوا: ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا مَرْوَانُ بْنُ جُنَاحٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ مَيْسَرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «الْخَيْرُ عَادَةٌ وَالشَّرُّ لَجَاجَةٌ» ، زَادَ ابْنُ بِنْتِ شُرَحْبِيلَ فِي حَدِيثِهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَمَنْ يُرِدِ اللهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ»
ترجمہ
یونس بن میسرہ بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”نیکی عادت ہے اور برائی ضد ہے۔“
ابن بنت شرحبیل نے اپنی روایت میں نبی کریم ﷺ سے یہ اضافہ نقل کیا ہے: ”اور جس کے ساتھ اللہ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے، اسے دین کی سمجھ عطا فرما دیتا ہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الميم / حدیث: 16953
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 385، حدیث 904
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ دُحَيْمٍ، ثنا أَبِي، ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا دُحَيْمٌ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا مَرْوَانُ بْنُ جُنَاحٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ مَيْسَرَةَ بْنِ حَلْبَسَ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا فِي الْمَسْجِدِ إِذْ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «إِنَّكُمْ تَتَحَدَّثُونَ أَنِّي مِنْ آخِرِكُمْ وَفَاةً وَأَنِّي مِنْ أَوَّلِكُمْ وَفَاةً، وَتَتْبَعُونِي أَفْنَادًا» ، يَعْنِي بَعْضُكُمْ بَعْضًا، ثُمَّ نَزَعَ بِهَذِهِ الْآيَةِ، فَقَالَ: {قُلْ هُوَ الْقَادِرُ عَلَى أَنْ يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذَابًا مِنْ فَوْقِكُمْ أَوْ مِنْ تَحْتِ أَرْجُلِكُمْ} [الأنعام: ٦٥] ، حَتَّى بَلَغَ: {لِكُلِّ نَبَإٍ مُسْتَقَرٌّ وَسَوْفَ تَعْلَمُونَ} [الأنعام: ٦٧] ، ثُمَّ قَالَ: «لَا تَبْرَحُ عِصَابَةٌ مِنْ أُمَّتِي يُقَاتِلُونَ عَلَى الْحَقِّ ظَاهِرِينَ لَا يُبَالُونَ مَنْ خَذَلَهُمْ وَلَا مَنْ خَالَفَهُمْ حَتَّى يَأْتِيَ أَمْرُ اللهِ عَلَى ذَلِكَ» ، ثُمَّ نَزَعَ بِهَذِهِ الْآيَةِ: {يَا عِيسَى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَيَّ وَمُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا وَجَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ} [آل عمران: ٥٥]
ترجمہ
سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم مسجد میں بیٹھے تھے کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا: ”تم بیان کرتے ہو کہ میں تم میں سے سب سے آخر میں وفات پاؤں گا، حالانکہ میں تم میں سے سب سے پہلے وفات پاؤں گا، اور تم گروہ در گروہ میرے پیچھے آؤ گے“، یعنی تم ایک دوسرے کے پیچھے۔ پھر آپ ﷺ نے اس آیت کی تلاوت کی: ”فرما دیجیے: وہ اس بات پر قادر ہے کہ تم پر کوئی عذاب تمہارے اوپر سے یا تمہارے پاؤں کے نیچے سے بھیج دے“ [الانعام: 65]، یہاں تک کہ آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت کی: ”ہر خبر کا ایک وقتِ مقررہ ہے اور عنقریب تمہیں معلوم ہو جائے گا“ [الانعام: 67]، پھر فرمایا: ”میری امت میں سے ایک جماعت ہمیشہ حق پر غالب رہ کر لڑتی رہے گی، انہیں رسوا کرنے والے یا مخالفت کرنے والے کی پروا نہیں ہو گی، یہاں تک کہ اللہ کا حکم اسی حال میں آ جائے“، پھر آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت کی: ”اے عیسیٰ! میں تجھے پورا لینے والا اور اپنی طرف اٹھانے والا اور کافروں سے پاک کرنے والا ہوں، اور تیری پیروی کرنے والوں کو قیامت تک کافروں پر غالب رکھنے والا ہوں“ [آل عمران: 55]۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الميم / حدیث: 16954
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 386، حدیث 905
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ السَّمَيْدَعِ الْأَنْطَاكِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ الصُّورِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ وَاقِدٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ مَيْسَرَةَ بْنِ حَلْبَسَ قَالَ: سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ يُرِدِ اللهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ»
قَالَ: وَخَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «أَتَقُولُونَ إِنِّي مِنْ آخِرِكُمْ مَوْتًا؟» ، قُلْنَا: نَعَمْ، قَالَ: «فَإِنِّي مِنْ أَوَّلِكُمْ مَوْتًا، ثُمَّ تَتَّبِعُونِي أَفْنَادًا يَتْبَعُ بَعْضُكُمْ بَعْضًا»
وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي قَائِمَةً عَلَى الْحَقِّ لَا يُبَالُونُ مَنْ خَالَفَهُمْ وَلَا مَنْ خَذَلَهُمْ حَتَّى يَأْتِيَ أَمْرُ اللهِ وَهُمْ ظَاهِرُونَ عَلَى النَّاسِ»
ترجمہ
یونس بن میسرہ بن حلبس بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”جس کے ساتھ اللہ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے، اسے دین کی سمجھ عطا فرما دیتا ہے۔“
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اور رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا: ”کیا تم کہتے ہو کہ میں تم میں سب سے آخر میں مروں گا؟“ ہم نے کہا: جی ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بلکہ میں تم میں سب سے پہلے مروں گا، پھر تم گروہ در گروہ میرے پیچھے آؤ گے، تم میں سے ایک دوسرے کے پیچھے آئے گا۔“
اور میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”میری امت میں سے ایک گروہ ہمیشہ حق پر قائم رہے گا، انہیں مخالفت کرنے والے یا رسوا کرنے والے کی پروا نہیں ہو گی، یہاں تک کہ اللہ کا حکم آ جائے اور وہ لوگوں پر غالب ہوں۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الميم / حدیث: 16955
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 386، حدیث 906