کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: عاصم عدوی کی سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، قَالَا: ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، قَالُوا: ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أبِي حُصَيْنٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَاصِمٍ الْعَدَوِيِّ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَة، قَالَ: خَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ جُلُوسٌ عَلَى وِسَادَةٍ مِنْ آدَمٍ، فَقَالَ: «إِنَّهُ» سَيَكُونُ بَعْدِي أُمَرَاءُ، فَمَنْ دَخَلَ عَلَيْهِمْ فَصَدَّقَهُمْ بِكَذِبِهِمْ وَأَعَانَهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ فَلَيْسَ مِنِّي وَلَسْتُ مِنْهُ وَلَنْ يَرِدَ عَلَى الْحَوْضِ، وَمَنْ لَمْ يُصَدِّقْهُمْ بِكَذِبِهِمْ وَلَمْ يُعِنْهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ فَهُوَ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ وَهُوَ وَارِدٌ عَلَى الْحَوْضِ ".
ترجمہ
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ ہماری طرف تشریف لائے، ہم چمڑے کے ایک تکیے پر بیٹھے تھے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”میرے بعد کچھ حکمران ہوں گے، جو ان کے پاس جائے اور ان کے جھوٹ کی تصدیق کرے اور ان کے ظلم پر ان کی مدد کرے، وہ مجھ سے نہیں اور میں اس سے نہیں، اور وہ (میرے) حوض پر نہیں آئے گا۔ اور جو ان کے جھوٹ کی تصدیق نہ کرے اور نہ ان کے ظلم پر ان کی مدد کرے، وہ مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں، اور وہ حوض پر آئے گا۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ شَبِيبٍ الْعَسَّالُ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَمْرٍو الْبَجَلِيُّ، ثنا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنْ أبِي حُصَيْنٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَاصِمٍ الْعَدَوِيِّ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَة، قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا سَابِعُ سَبْعَةٍ، فَقَالَ: «إِنَّهُ سَيَكُونُ بَعْدِي أُمَرَاءُ» ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ
ترجمہ
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے، اس وقت میں سات آدمیوں میں ساتواں تھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”میرے بعد کچھ حکمران ہوں گے“، پھر آپ نے اسی طرح کی حدیث بیان فرمائی۔
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الرَّقِّيُّ، ثنا فَيْضُ بْنُ الْفَضْلِ، أنا مِسْعَرُ بْنُ كِدَامٍ، عَنْ أبِي حُصَيْنٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَاصِمٍ الْعَدَوِيِّ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَة، قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ تِسْعَةٌ، خَمْسَةٌ مِنَ الْعَرَبِ وَأَرْبَعَةٌ مِنَ الْعَجَمِ، فَقَالَ: «اسْمَعُوا أَمَا سَمِعْتُمْ أَنَّهُ سَيَكُونُ بَعْدِي أُمَرَاءُ، فَمَنْ دَخَلَ عَلَيْهِمْ فَصَدَّقَهُمْ بِكَذِبِهِمْ وَأَعَانَهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ فَلَيْسَ مِنِّي وَلَسْتُ مِنْهُ وَلَيْسَ بِوَارِدٍ عَلَى الْحَوْضِ، وَمَنْ لَمْ يَدْخُلْ عَلَيْهِمْ وَلَمْ يُعِنْهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ فَهُوَ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ وَسَيَرِدُ عَلَى الْحَوْضِ» .
ترجمہ
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ ہماری طرف تشریف لائے، ہم نو آدمی تھے، پانچ عرب اور چار عجمی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”سنو، کیا تم نے نہیں سنا کہ میرے بعد کچھ حکمران ہوں گے، جو ان کے پاس جائے اور ان کے جھوٹ کی تصدیق کرے اور ان کے ظلم پر ان کی مدد کرے، وہ مجھ سے نہیں اور میں اس سے نہیں، اور وہ حوض پر آنے والا نہیں۔ اور جو ان کے پاس نہ جائے اور ان کے ظلم پر ان کی مدد نہ کرے، وہ مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں، اور وہ حوض پر آئے گا۔“
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ دِينَارٍ، عَنِ الْفَضْلِ بْنِ مُوَفَّقٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو حَنِيفَةَ مُحَمَّدُ بْنُ حَنِيفَةَ الْوَاسِطِيُّ، ثنا مَعْمَرُ بْنُ سَهْلٍ الْأَهْوَازِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْكُوفِيُّ، قَالَا: ثنا مِسْعَرُ بْنُ كِدَامٍ، عَنْ أبِي حُصَيْنٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَاصِمٍ الْعَدَوِيِّ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَة، قَالَ: خَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ نَحْوَهُ
ترجمہ
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ ہماری طرف تشریف لائے، پھر راوی نے اسی طرح کی حدیث بیان کی۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْعَبَّاسِ الطَّيَالِسِيُّ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ عَلِيٍّ الْجَارُودِيُّ النَّيْسَابُورِيُّ قَالَا: ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ عَقِيلٍ، رَجُلٌ مِنْ بَنِي جَعْدَةَ، عَنْ أبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمٍ الْعَدَوِيِّ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَة، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَعَاذَكَ اللهُ مِنْ أُمَرَاءَ يَكُونُونُ مِنْ بَعْدِي» ، قُلْتُ: وَمَا ذَاكَ؟، فَقَالَ: «مَنْ دَخَلَ عَلَيْهِمْ فَصَدَّقَهُمْ بِكَذِبِهِمْ وَأَعَانَهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ فَلَيْسَ مِنِّي وَلَسْتُ مِنْهُ وَلَنْ يَرِدَ عَلَى الْحَوْضِ، وَمَنْ لَمْ يَدْخُلْ عَلَيْهِمْ وَلَمْ يُصَدِّقْهُمْ بِكَذِبِهِمْ وَلَمْ يُعِنْهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ فَذَلِكَ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ وَسَيَرِدُ عَلَى حَوْضِي»
" لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ لَحْمٌ نَبَتَ مِنْ سُحْتٍ، وَكُلُّ لَحْمٍ نَبَتَ مِنْ سُحْتٍ فَالنَّارُ أَوْلَى بِهِ، وَالنَّاسُ غَادِيَانِ: ضَائِعٌ نَفْسَهُ فَمُوبِقُهَا، وَفَادٍ نَفْسَهُ فَمُعْتِقُهَا، وَالصَّلَاةُ بُرْهَانٌ، وَالصَّوْمُ جُنَّةٌ، وَالصَّدَقَةُ تُطْفِيءُ الْخَطِيئَةَ كَمَا يُطْفِيءُ الْمَاءُ النَّارَ "
" لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ لَحْمٌ نَبَتَ مِنْ سُحْتٍ، وَكُلُّ لَحْمٍ نَبَتَ مِنْ سُحْتٍ فَالنَّارُ أَوْلَى بِهِ، وَالنَّاسُ غَادِيَانِ: ضَائِعٌ نَفْسَهُ فَمُوبِقُهَا، وَفَادٍ نَفْسَهُ فَمُعْتِقُهَا، وَالصَّلَاةُ بُرْهَانٌ، وَالصَّوْمُ جُنَّةٌ، وَالصَّدَقَةُ تُطْفِيءُ الْخَطِيئَةَ كَمَا يُطْفِيءُ الْمَاءُ النَّارَ "
ترجمہ
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تمہیں ان حکمرانوں سے پناہ دے جو میرے بعد آئیں گے۔“ میں نے عرض کیا: وہ کیا بات ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو ان کے پاس جائے اور ان کے جھوٹ کی تصدیق کرے اور ان کے ظلم پر ان کی مدد کرے، وہ مجھ سے نہیں اور میں اس سے نہیں، اور وہ کبھی حوض پر نہیں آئے گا۔ اور جو ان کے پاس نہ جائے، نہ ان کے جھوٹ کی تصدیق کرے، اور نہ ان کے ظلم پر ان کی مدد کرے، وہ مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں، اور وہ میرے حوض پر آئے گا۔“
”حرام کمائی سے پلا ہوا گوشت جنت میں داخل نہیں ہو گا، اور جو گوشت حرام کمائی سے پلا ہو، اس کے لیے آگ زیادہ حق دار ہے۔ اور لوگ دو طرح کے صبح کرنے والے ہیں: ایک وہ جو اپنے آپ کو ضائع کر کے ہلاک کرنے والا ہے، اور دوسرا وہ جو اپنے آپ کو (گناہوں سے) چھڑا کر آزاد کرنے والا ہے۔ نماز دلیل ہے، روزہ ڈھال ہے، اور صدقہ گناہ کو اس طرح بجھا دیتا ہے جیسے پانی آگ کو بجھا دیتا ہے۔“
”حرام کمائی سے پلا ہوا گوشت جنت میں داخل نہیں ہو گا، اور جو گوشت حرام کمائی سے پلا ہو، اس کے لیے آگ زیادہ حق دار ہے۔ اور لوگ دو طرح کے صبح کرنے والے ہیں: ایک وہ جو اپنے آپ کو ضائع کر کے ہلاک کرنے والا ہے، اور دوسرا وہ جو اپنے آپ کو (گناہوں سے) چھڑا کر آزاد کرنے والا ہے۔ نماز دلیل ہے، روزہ ڈھال ہے، اور صدقہ گناہ کو اس طرح بجھا دیتا ہے جیسے پانی آگ کو بجھا دیتا ہے۔“