کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: ابوملیح بن اسامہ ہذلی کی سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَائِلَةَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا شَبَابٌ الْعُصْفُرِيُّ، ثنا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ خَالِدٍ، يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ غَالِبٍ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «عَلَيْكُمْ مِنَ الْعَمَلِ بِمَا تُطِيقُونَ، فَإِنَّ اللهَ لَا يَمَلُّ حَتَّى تَمَلُّوا»
ترجمہ
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اپنی طاقت کے مطابق عمل کرو، کیونکہ اللہ نہیں اکتاتا جب تک تم خود نہ اکتاؤ۔“
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ، ثنا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ أَبِي حُمَيْدٍ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: أَتَتِ امْرَأَةٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّهَا زَنَتْ، فَقَالَتْ ذَلِكَ مِرَارًا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيُّكُمْ يَأْوِي هَذِهِ؟» قَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: أَنَا يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: «فَانْطَلِقْ بِهَا فَلْتَكُنْ تُمْهِلْ، فَإِذَا وَضَعَتْ فَائْتِنِي بِهَا» فَأَتَى بِهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَمَا وَضَعَتْ، فَأَمَرَ بِهَا، فَرُجِمَتْ ثُمَّ قَالَ لِأَصْحَابِهِ: «تَقَدَّمُوا فَصَلُّوا عَلَيْهَا» قَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَتُصَلِّي عَلَيْهَا؟ قَالَ: «لَقَدْ تَابَتْ تَوْبَةً لَوْ تَابَهَا سَبْعُونَ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَة لَقُبِلَ مِنْهُمْ»
ترجمہ
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ایک عورت نبی کریم ﷺ کے پاس آئی اور کہنے لگی: یا رسول اللہ، اس نے زنا کیا ہے۔ وہ یہ بات بار بار دہراتی رہی، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے کون اسے اپنے ہاں ٹھہرائے گا؟“ ایک آدمی نے کہا: میں، یا رسول اللہ۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے لے جاؤ اور مہلت دو، پھر جب وہ بچہ جن لے تو اسے میرے پاس لانا۔“ چنانچہ وہ اسے بچہ جننے کے بعد نبی کریم ﷺ کے پاس لایا، تو آپ ﷺ نے حکم دیا اور اسے سنگسار کیا گیا، پھر آپ ﷺ نے اپنے صحابہ سے فرمایا: ”آگے بڑھو اور اس پر نماز پڑھو۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ، کیا آپ اس پر نماز پڑھتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر مدینہ کے ستر آدمی اس جیسی توبہ کریں تو وہ قبول کر لی جائے۔“