حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ زُهَيْرٍ التُّسْتَرِيُّ، ثنا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، أنا عَبْدُ الْأَعْلَى، ثنا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ نَاقَةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فُقِدَتْ، وَإِذَا امْرَأَةٌ تُرِيدُ أَنْ تَنْحَرَهَا، فَقَالُوا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: إِنِّي كُنْتُ نَذَرْتُ أَنْ أَنْحَرَهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيْسَ عَلَى أَحَدٍ نَذْرٌ فِيمَا لَا يَمْلِكُ»
ترجمہ
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی اونٹنی گم ہو گئی تھی، پھر پتا چلا کہ ایک عورت اسے ذبح کرنا چاہتی تھی، تو لوگوں نے نبی کریم ﷺ کو بتایا، اس نے کہا: میں نے نذر مانی تھی کہ میں اسے ذبح کروں گی۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جس چیز کا آدمی مالک نہیں، اس میں کسی پر نذر پوری کرنا لازم نہیں۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا مَحْبُوبُ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا بَلَغَهُ وَفَاةُ النَّجَاشِيِّ قَالَ: «إِنَّ أَخَاكُمُ النَّجَاشِيُّ قَدْ مَاتَ فَصَلُّوا عَلَيْهِ» فَقَامَ فَصَلَّى عَلَيْهِ وَالنَّاسُ خَلْفَهُ
ترجمہ
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ کو نجاشی کی وفات کی خبر پہنچی تو فرمایا: ”تمہارا بھائی نجاشی فوت ہو گیا ہے، اس پر نمازِ جنازہ پڑھو۔“ چنانچہ آپ ﷺ کھڑے ہوئے اور لوگوں نے آپ ﷺ کے پیچھے ہو کر اس پر نماز پڑھی۔