کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: مبارک بن فضالہ کی، حسن کے واسطے سے، سیدنا عمران رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَاشِمٍ الْبَغَوِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلَّامٍ الْجُمَحِيُّ قَالُوا: ثنا مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: رَأَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عَضُدِ رَجُلٍ حَلْقَةً فَقَالَ: «مَا هَذَا؟» قَالَ: الْوَاهِنَةُ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَنْ تَزِدْكَ إِلَّا وَهْنًا انْبُذْهَا عَنْكَ إِنْ مُتَّ وَهِيَ عَلَيْكَ وُكِلْتَ إِلَيْهَا»
ترجمہ
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے ایک آدمی کے بازو میں ایک چھلا دیکھا تو فرمایا: ”یہ کیا ہے؟“ اس نے کہا: واہنہ (کے لیے ہے)۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یہ تمہیں کمزوری کے سوا کچھ نہیں بڑھائے گی، اسے اپنے سے اتار پھینکو، اگر تم اسی حالت میں مر گئے تو تمہیں اسی کے حوالے کر دیا جائے گا۔“
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا يَعْلَى بْنُ عَبَّادِ بْنِ يَعْلَى، ثنا مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، ثنا الْحَسَنُ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: «إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَانَا عَنِ الْكَيِّ فَاكْتَوَيْنَا فَمَا أَفْلَحْنَا وَلَا أَنْجَحْنَا»
ترجمہ
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے ہمیں داغنے سے منع فرمایا تھا، لیکن ہم نے داغ لیا، تو ہم کامیاب نہ ہوئے اور نہ فلاح پائی۔
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا حَوْثَرَةُ بْنُ أَشْرَسَ، ثنا مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ رَجُلًا أَعْتَقَ سِتَّةَ مَمْلُوكِينَ لَهُ عِنْدَ مَوْتِهِ، وَلَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُمْ، «فَأَقْرَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمْ فَأَعْتَقَ اثْنَيْنِ وَرَدَّ أَرْبَعَةً فِي الرِّقِّ»
ترجمہ
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے اپنی موت کے وقت اپنے چھ غلام آزاد کیے، اور اس کے پاس ان کے سوا کوئی مال نہ تھا، ”تو رسول اللہ ﷺ نے ان کے درمیان قرعہ ڈالا، دو کو آزاد کر دیا اور چار کو غلامی میں لوٹا دیا۔“