حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَمْزَةَ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَائِذٍ، ثنا الْهَيْثَمُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، ائْذَنْ لِي فِي الزِّنَا، فَصَاحَ بِهِ النَّاسُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ: «أَقِرُّوهُ» فَدَنَا حَتَّى جَلَسَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ: «أَتُحِبُّهُ لِأُمِّكَ؟» قَالَ: لَا. قَالَ: «وَكَذَلِكَ النَّاسُ لَا يُحِبُّونَهُ لِأُمَّهَاتِهِمْ» . قَالَ: «أَتُحِبُّهُ لِابْنَتِكَ؟» قَالَ: لَا. قَالَ: «وَكَذَلِكَ النَّاسُ لَا يُحِبُّونَهُ لِبَنَاتِهِمْ» . قَالَ: «أَتُحِبُّهُ لِأُخْتِكَ؟» قَالَ: لَا. قَالَ: «وَكَذَلِكَ النَّاسُ لَا يُحِبُّونَهُ لِأَخَوَاتِهِمْ» . فَوَضَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ يَدَهُ عَلَى صَدْرِهِ، فَقَالَ: «اللهُمَّ كَفِّرْ ذَنْبَهُ، وَطَهِّرْ قَلْبَهْ، وَحَصِّنْ فَرْجَهُ»
ترجمہ
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے زنا کی اجازت دے دیجیے۔ لوگوں نے اسے ڈانٹا، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اسے رہنے دو۔“ وہ قریب آ کر رسول اللہ ﷺ کے سامنے بیٹھ گیا، تو نبی کریم ﷺ نے اس سے فرمایا: ”کیا تو یہ اپنی ماں کے لیے پسند کرتا ہے؟“ اس نے کہا: نہیں۔ فرمایا: ”اسی طرح لوگ بھی اسے اپنی ماؤں کے لیے پسند نہیں کرتے۔“ فرمایا: ”کیا تو یہ اپنی بیٹی کے لیے پسند کرتا ہے؟“ اس نے کہا: نہیں۔ فرمایا: ”اسی طرح لوگ بھی اسے اپنی بیٹیوں کے لیے پسند نہیں کرتے۔“ فرمایا: ”کیا تو یہ اپنی بہن کے لیے پسند کرتا ہے؟“ اس نے کہا: نہیں۔ فرمایا: ”اسی طرح لوگ بھی اسے اپنی بہنوں کے لیے پسند نہیں کرتے۔“ پھر رسول اللہ ﷺ نے اپنا ہاتھ اس کے سینے پر رکھا اور فرمایا: ”اے اللہ! اس کا گناہ بخش دے، اس کا دل پاک کر دے، اور اس کی شرمگاہ محفوظ رکھ۔“
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِرْيَابِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَائِذٍ، ثنا الْهَيْثَمُ بْنُ حُمَيْدٍ، ثنا الْعَلَاءُ بْنُ الْحَارِثِ، ثنا الْقَاسِمُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، أَنَّ رَجُلًا اسْتَأْذَنَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ فِي السِّيَاحَةِ، فَقَالَ: «إِنَّ سِيَاحَةَ أُمَّتِي الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ»
ترجمہ
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے (ترکِ دنیا کر کے) سیاحت کی اجازت مانگی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”میری امت کی سیاحت اللہ عزوجل کے راستے میں جہاد ہے۔“