حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حَكِيمٍ الْأَوْدِيُّ، ح. وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، قَالَا: ثنا شَرِيكٌ، ثنا عُتْبَةُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: " كَانَ شِعَارُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَمِتْ أَمِتْ «زَادَ عَلِيُّ بْنُ حَكِيمٍ» فِي بَعْضِ غَزَوَاتِهِ "
ترجمہ
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم ﷺ کا نعرہ تھا: ”مار ڈالو، مار ڈالو۔“
امام طبرانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: علی بن حکیم نے اپنی روایت میں ”بعض غزوات میں“ کا اضافہ کیا ہے۔
امام طبرانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: علی بن حکیم نے اپنی روایت میں ”بعض غزوات میں“ کا اضافہ کیا ہے۔
حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَلْطِيُّ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا أَبُو الْعُمَيْسِ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَيْنٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ، وَهُوَ فِي سَفَرٍ، فَجَلَسَ يَتَحَدَّثُ عِنْدَ أَصْحَابِهِ، ثُمَّ انْسَلَّ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اطْلُبُوهُ، فَاقْتُلُوهُ» ، فَسَبَقْتُهُمْ إِلَيْهِ، فَقَتَلْتُهُ، وَأَخَذْتُ سَلَبَهُ، فَنَفَّلَنِي إِيَّاهُ
ترجمہ
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ کے پاس مشرکین میں سے ایک جاسوس آیا، آپ ﷺ سفر میں تھے، وہ بیٹھ کر صحابہ کے پاس باتیں کرنے لگا، پھر چپکے سے نکل گیا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اسے تلاش کر کے قتل کر دو۔“ تو میں سب سے پہلے اس تک پہنچا اور اسے قتل کر دیا، اور اس کا سامان لے لیا، تو آپ ﷺ نے وہ سامان مجھے عطا کر دیا۔
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، ثنا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنْ عُتْبَةَ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , إِذْ جَاءَ رَجُلٌ، فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ، فَقَالَ: «أَدْرِكْهُ، فَإِنَّهُ عَيْنٌ» ، فَأَدْرَكْتُهُ، وَكُنْتُ خَفِيفًا، فَقَتَلْتُهُ، فَنَفَّلَنِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَلَبَهُ
ترجمہ
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی کریم ﷺ کے پاس تھا کہ ایک شخص آیا اور مسجد میں داخل ہوا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے پکڑو، کیونکہ وہ جاسوس ہے۔“ تو میں اس تک پہنچ گیا، اور چونکہ میں تیز رفتار تھا، اس لیے میں نے اسے قتل کر دیا، تو نبی کریم ﷺ نے اس کا سامان مجھے عطا فرما دیا۔