کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: داؤد بن ابی ہند کی ابوعثمان نہدی کے واسطے سے سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ سَلْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ خَلَقَ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ مِائَةَ رَحْمَةٍ، كُلُّ رَحْمَةٍ طِبَاقُ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، مِنْهَا رَحْمَةٌ وَاحِدَةٌ فِيهَا تَعْطِفُ الْوَالِدَةُ عَلَى وَلَدِهَا، وَالْوَحْشُ بَعْضُهَا عَلَى بَعْضٍ، وَأَخَّرَ تِسْعًا وَتِسْعِينَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ»
ترجمہ
سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ عزوجل نے جس دن آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، اسی دن سو رحمتیں پیدا فرمائیں، ہر رحمت آسمان و زمین کے درمیانی فاصلے کے برابر ہے، ان میں سے ایک رحمت ایسی ہے جس کی وجہ سے ماں اپنی اولاد پر شفقت کرتی ہے اور جنگلی جانور بھی ایک دوسرے پر شفقت کرتے ہیں، اور ننانوے رحمتیں قیامت کے دن کے لیے مؤخر رکھی ہیں۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مُكْرَمٍ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ شُعْبَةَ الْأُمَوِيُّ، حَدَّثَنَا عَمِّي، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ سَلْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَتَوَضَّأُ فَيُحْسِنُ وُضُوءَهُ، إِلَّا كَانَ زَائِرَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَحَقٌّ عَلَى الْمَزُورِ أَنْ يُكْرِمَ زَائِرَهُ»
ترجمہ
سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو مسلمان بھی وضو کرے اور اچھی طرح وضو کرے، تو وہ اللہ عزوجل کا زائر ہے، اور جس سے ملاقات کی جائے اس پر حق ہے کہ وہ اپنے زائر کی عزت کرے۔“