حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا بِشْرُ بْنُ الْوَلِيدِ الْكِنْدِيُّ، ثنا شَرِيكٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنِ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الصَّلْتِ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، أَنَّهُ كَانَ يُصَلِّي قَبْلَ الظُّهْرِ أَرْبَعًا، فَقِيلَ لَهُ؟ فَقَالَ: إِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّيهَا فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: «إِنَّهَا سَاعَةٌ تُفْتَحُ فِيهَا أَبْوَابُ السَّمَاءِ، فَأُحِبُّ أَنْ يَرْتَفِعَ لِي فِيهَا عَمَلٌ صَالِحٌ»
ترجمہ
سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ ظہر سے پہلے چار رکعتیں پڑھا کرتے تھے۔ ان سے پوچھا گیا (کہ یہ کیا ہے؟) تو انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ پڑھتے دیکھا تھا، چنانچہ میں نے آپ سے پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ وہ گھڑی ہے جس میں آسمان کے دروازے کھلتے ہیں، اس لیے میں چاہتا ہوں کہ اس میں میرا کوئی نیک عمل اوپر پہنچے۔“
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنِ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الصَّلْتِ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، أَنَّهُ كَانَ يُصَلِّي قَبْلَ الظُّهْرِ أَرْبَعًا فَقِيلَ لَهُ: مَا هَذِهِ الصَّلَاةُ؟، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّيهَا فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ: «إِنَّهَا سَاعَةٌ تُفْتَحُ فِيهَا أَبْوَابُ السَّمَاءِ، فَأُحِبُّ أَنْ يُرْفَعَ لِي فِيهَا عَمَلٌ صَالِحٌ»
ترجمہ
سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ ظہر سے پہلے چار رکعتیں پڑھا کرتے تھے۔ ان سے پوچھا گیا: یہ کون سی نماز ہے؟ انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ پڑھتے دیکھا تھا، چنانچہ میں نے آپ سے پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ وہ گھڑی ہے جس میں آسمان کے دروازے کھلتے ہیں، اس لیے میں چاہتا ہوں کہ اس میں میرا کوئی نیک عمل اوپر پہنچے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا يَحْيَى بْنُ عِيسَى الرَّمْلِيُّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنِ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الصَّلْتِ، قَالَ: رَأَيْتُ أَبَا أَيُّوبَ نَزَعَ خُفَّيْهِ، فَنَظَرُوا إِلَيْهِ، فَقَالَ: «أَمَا إِنِّي قَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ عَلَيْهِمَا وَلَكِنِّي حُبِّبَ إِلَيَّ الْوُضُوءُ»
ترجمہ
علی بن صلت بیان کرتے ہیں: میں نے ابوایوب رضی اللہ عنہ کو اپنے موزے اتارتے دیکھا، لوگوں نے (تعجب سے) انہیں دیکھا تو انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو ان پر مسح کرتے دیکھا ہے، لیکن مجھے وضو (کرنا) پسند ہے۔