حدیث نمبر: 9981
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَارِمٌ أَبُو النُّعْمَانِ، ثنا سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَكَمِ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عنِ الْأَسْوَدِ، وَعَلْقَمَةَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: جَاءَ ابْنَا مُلَيْكَةَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَا: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ أُمَّنَا كَانَتْ تُكْرِمُ الزَّوْجَ، وَتَعْطِفُ عَلَى الْوَلَدِ، وَذَكَرَ الضَّيْفَ، غَيْرَ أَنَّهَا كَانَتْ وَأَدَتْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَقَالَ: «أُمُّكُمَا فِي النَّارِ» . فَأَدْبَرَا وَالشَّرُّ يُرَى فِي وُجُوهِهِمَا، فَأَمَرَ بِهِمَا فَرُدَّا وَالْبِشْرُ يُرَى فِي وُجُوهِهِمَا رَجَاءَ أَنْ يَكُونَ حَدَثَ شَيْءٌ، فَقَالَ: «أُمِّي مَعَ أُمِّكُمَا» ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْمُنَافِقِينَ: مَا يُغْنِي هَذَا عَنْ أُمِّهِ، وَنَحْنُ نَطَأُ عَقِبَهُ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، وَلَمْ أَرَ رَجُلًا قَطُّ كَانَ أَكْثَرَ سُؤَالًا مِنْهُ: يَا رَسُولَ اللهِ، هَلْ وَعَدَ رَبُّكَ فِيهَا أَوْ فِيهِمَا؟ قَالَ: «تَظُنُّ أَنَّهُ مِنْ شَيْءٍ» ، قَالَ: «مَا سَأَلْتُ رَبِّي، وَإِنِّي لَأَقُومُ الْمَقَامَ الْمَحْمُودَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» ، قَالَ الْأَنْصَارِيُّ: وَمَا ذَاكَ الْمَقَامُ الْمَحْمُودُ؟ قَالَ: " ذَاكَ إِذَا جِيءَ بِكُمْ حُفَاةً عُرَاةً، فَيَكُونُ أَوَّلَ مَنْ يُكْسَى إِبْرَاهِيمُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: اكْسُوا خَلِيلِي، فَيُؤْتَى بِرِبْطَيْنِ بَيْضَاوَيْنِ فَيَلْبَسُهُمَا، ثُمَّ يَقْعُدُ مُسْتَقْبِلَ الْعَرْشِ، ثُمَّ أُوتَى بِكِسْوَتِي فَأَلْبَسُهَا، فَأَقُومُ عَنْ يَمِينِهِ مَقَامًا لَا يَقُومُهُ أَحَدٌ غَيْرِي، يَغْبِطُنِي بِهَا الْأَوَّلُونَ وَالْآخِرُونَ، وَيُفْتَحُ نَهْرِي كَوْثَرٌ إِلَى الْحَوْضِ "، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْمُنَافِقِينَ: فَإِنَّهُ مَا جَرَى سَاقِطٌ إِلَّا عَلَى حَالٍ أَوْ رَضْرَاضٍ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَيُّ حَالٍ وَرَضْرَاضٍ؟ قَالَ: «حَالُهُ الْمِسْكُ، وَرَضْرَاضُهُ التُّومُ» ، قَالَ الْمُنَافِقُ: لَمْ أَسْمَعْ كَالْيَوْمِ قَطُّ مَاءً جَرَى عَلَى حَالٍ أَوْ رَضْرَاضٍ إِلَّا كَانَ لَهُ نَبَاتٌ، قَالَ الْأَنْصَارِيُّ: يَا رَسُولَ اللهِ، هَلْ لَهُ نَبَاتٌ؟ قَالَ: «نَعَمْ قُضْبَانُ الذَّهَبِ» ، قَالَ الْمُنَافِقُ: لَمْ أَسْمَعْ كَالْيَوْمِ؛ فَإِنَّهُ مَا نَبَتَ قَضِيبٌ إِلَّا أَوْرَقَ وَكَانَ لَهُ ثَمَرٌ، قَالَ الْأَنْصَارِيُّ: هَلْ لَهُ مِنْ ثَمَرٍ؟ قَالَ: «نَعَمْ، أَلْوَانُ الْجَوْهَرِ، وَمَاؤُهُ أَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ اللَّبَنِ، وَأَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ، مَنْ شَرِبَ مِنْهُ شَرْبَةً لَمْ يَظْمَأْ أَبَدًا، وَمَنْ حُرِمَهُ لَمْ يُرْوَ مِنْ بَعْدِهِ» . وَرَوَى هَذَا الْحَدِيثَ الصَّعِقُ بْنُ حَزْنٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحَكَمِ، فَخَالَفَ سَعِيدَ بْنَ زَيْدٍ فِي إِسْنَادِهِ .
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: ”...ملیکہ کے دونوں بیٹے نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! ہماری ماں شوہر کی عزت کرنے والی، اولاد پر مہربان تھی“ (اور مہمان نوازی کا بھی ذکر کیا)، ”مگر اس نے جاہلیت میں (اپنی بیٹی کو) زندہ دفن کیا تھا۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہاری ماں جہنم میں ہے۔“ وہ دونوں پیٹھ پھیر کر چلے تو ان کے چہروں پر رنج نمایاں تھا۔ آپ ﷺ نے حکم دے کر انہیں واپس بلوایا، تو ان کے چہروں پر خوشی نمایاں تھی، اس امید سے کہ شاید کوئی نئی بات پیش آئی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میری ماں بھی تمہاری ماں کے ساتھ ہے۔“ اس پر منافقین میں سے ایک آدمی نے کہا: اس نے اپنی ماں کو کیا فائدہ پہنچایا، جبکہ ہم (بھی) اسی کے نقشِ قدم پر چل رہے ہیں (یعنی ہم بھی جہنم میں جائیں گے)۔ انصار میں سے ایک آدمی نے - اور میں نے کبھی کسی کو اس سے زیادہ سوال کرنے والا نہیں دیکھا - عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا آپ کے رب نے اس (ماں) کے یا آپ دونوں کے بارے میں کوئی وعدہ فرمایا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم کچھ گمان کر رہے ہو؟“ (پھر فرمایا:) ”میں نے اپنے رب سے کچھ نہیں مانگا، لیکن میں قیامت کے دن مقامِ محمود پر کھڑا ہوں گا۔“ انصاری نے عرض کیا: یہ مقامِ محمود کیا ہے؟ فرمایا: ”یہ وہ ہے کہ جب تمہیں ننگے پاؤں، ننگے بدن لایا جائے گا، تو سب سے پہلے پہنایا جانے والا ابراہیم علیہ السلام ہوں گے، وہ کہیں گے: میرے خلیل کو کپڑے پہناؤ، تو دو سفید جوڑے لائے جائیں گے جنہیں وہ پہنیں گے، پھر وہ عرش کے سامنے رخ کر کے بیٹھ جائیں گے۔ پھر میرا لباس لایا جائے گا اور میں اسے پہنوں گا، پھر میں ان کے دائیں طرف ایک ایسے مقام پر کھڑا ہوں گا جہاں میرے سوا کوئی اور کھڑا نہیں ہوگا، اگلے اور پچھلے سب مجھ پر رشک کریں گے، اور میری نہر کوثر حوض تک کھولی جائے گی۔“ اس پر منافقین میں سے ایک آدمی نے کہا: کوئی بھی بہتا پانی کسی مٹی یا کنکر پر بہتا ہے (اس کا تلچھٹ ہوتا ہے)۔ انصاری نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اس کی مٹی اور کنکر کیا ہیں؟ فرمایا: ”اس کی مٹی مشک ہے، اور اس کے کنکر موتی ہیں۔“ منافق نے کہا: میں نے آج جیسا کبھی نہیں سنا کہ کوئی پانی مٹی یا کنکر پر بہے اور اس میں کوئی نباتات نہ اگیں۔ انصاری نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا اس میں نباتات اگتی ہیں؟ فرمایا: ”ہاں، سونے کی ٹہنیاں۔“ منافق نے کہا: میں نے آج جیسا کبھی نہیں سنا؛ کیونکہ جو ٹہنی اگتی ہے اس میں پتے اور پھل ضرور لگتے ہیں۔ انصاری نے عرض کیا: کیا اس میں پھل بھی ہیں؟ فرمایا: ”ہاں، ہر رنگ کے جواہر، اور اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہے، جو اس میں سے ایک گھونٹ پی لے وہ کبھی پیاسا نہیں ہوگا، اور جسے اس سے محروم کر دیا جائے وہ اس کے بعد کبھی سیراب نہیں ہوگا۔“ صعق بن حزن نے بھی یہ حدیث علی بن الحکم سے روایت کی، مگر اسناد میں سعید بن زید کی مخالفت کی۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 9981
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 10، صفحہ 80، حدیث 10017