المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
باب من روى عن ابن مسعود أنه لم يكن مع النبي صلى الله عليه وسلم ليلة الجن باب: جس نے روایت کیا کہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ لیلۃ الجن میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ نہیں تھے
حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ يَحْيَى بْنِ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ خَيْبَرَ، فَأَرَادَ أَنْ يَتَبَرَّزَ، وَكَانَ إِذَا أَرَادَ ذَلِكَ تَبَاعَدَ حَتَّى لَا يَرَاهُ أَحَدٌ، فَقَالَ: «انْظُرْ يَا عَبْدَ اللهِ هَلْ تَرَى شَيْئًا؟» فَنَظَرْتُ فَرَأَيْتُ شَجَرَةً وَاحِدَةً، فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ لِي: «انْظُرْ هَلْ تَرَى شَيْئًا؟» فَنَظَرْتُ فَرَأَيْتُ شَجَرَةً أُخْرَى مُتَبَاعِدَةً مِنْ صَاحِبَتِهَا، فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: " قُلْ لَهُمَا: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَكُمَا أَنْ تَجْتَمِعَا "، فَقُلْتُ لَهُمَا ذَلِكَ، فَاجْتَمَعَا، ثُمَّ أَتَاهُمَا فَاسْتَتَرَ بِهِمَا، ثُمَّ قَامَ فَانْطَلَقَتْ كُلُّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا إِلَى مَكَانِهَا
ثُمَّ أَصَابَ النَّاسَ عَطَشٌ شَدِيدٌ فِي تِلْكَ الْغَزَاةِ، فَقَالَ لِي: «يَا عَبْدَ اللهِ، الْتَمِسْ لِي مَاءً» ، فَأَتَيْتُهُ بِفَضْلِ مَاءٍ وَجَدْتُهُ فِي إِدَاوَةٍ، فَأَخَذَهُ فَصَبَّهُ فِي رَكْوَةٍ، ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ فِيهَا وَسَمَّى، فَجَعَلَ الْمَاءُ يَتَحَادَرُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ، فَشَرِبَ النَّاسُ وَتَوَضَّئُوا مَا شَاءَ اللهُ. قَالَ عَبْدُ اللهِ: فَقُلْتُ: إِنَّهُ بَرَكَةٌ، فَجَعَلْتُ أَشْرَبُ مِنْهُ وَأُكْثِرُ، أَلْتَمِسُ بَرَكَتَهُ
ثُمَّ رَجَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِبَلَ الْمَدِينَةِ، فَتَلَقَّاهُ جَمَلٌ قَدْ دَمَعَتْ عَيْنَاهُ فَقَالَ: «لِمَنْ هَذَا الْجَمَلُ؟» قَالُوا: لِبَنِي فُلَانٍ، قَالَ: «إِنَّهُ عَاذَ بِي» ، قَالَ: فَإِنَّهُمْ أَرَادُوا نَحْرَهُ، قَدْ عَمِلُوا عَلَيْهِ حَتَّى كَبِرَ وَدَبَرَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَنْحَرُوهُ، وَأَحْسِنُوا إِلَيْهِ»سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم نبی کریم ﷺ کے ساتھ غزوہ خیبر میں تھے، آپ ﷺ نے قضائے حاجت کا ارادہ کیا، اور آپ ﷺ جب ایسا ارادہ کرتے تو اتنی دور چلے جاتے کہ کوئی آپ ﷺ کو نہ دیکھے۔ فرمایا: ”اے عبداللہ! دیکھو تمہیں کچھ نظر آتا ہے؟“ میں نے دیکھا تو ایک درخت نظر آیا، میں نے آپ ﷺ کو بتایا۔ فرمایا: ”دیکھو، کچھ اور نظر آتا ہے؟“ میں نے دیکھا تو ایک اور درخت نظر آیا جو پہلے سے دور تھا، میں نے آپ ﷺ کو بتایا۔ فرمایا: ”ان دونوں سے کہو: رسول اللہ ﷺ تمہیں حکم دیتے ہیں کہ تم اکٹھے ہو جاؤ۔“ میں نے ان سے یہی کہا تو وہ اکٹھے ہو گئے۔ پھر آپ ﷺ ان کے پاس آئے اور ان کی آڑ لے کر (حاجت پوری کی)، پھر کھڑے ہوئے تو ہر درخت اپنی جگہ چلا گیا۔
پھر اس غزوہ میں لوگوں کو سخت پیاس لگی، تو آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”اے عبداللہ! میرے لیے پانی تلاش کرو۔“ میں ایک برتن میں تھوڑا سا بچا ہوا پانی لے آیا جو مجھے مل گیا تھا۔ آپ ﷺ نے اسے لیا اور ایک برتن میں انڈیلا، پھر اس میں اپنا ہاتھ ڈالا اور بسم اللہ پڑھی، تو پانی آپ ﷺ کی انگلیوں کے درمیان سے بہنے لگا، لوگوں نے پیا اور جتنا اللہ نے چاہا وضو کیا۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے کہا: یہ برکت والا ہے، تو میں اس میں سے زیادہ سے زیادہ پینے لگا، اس کی برکت حاصل کرنے کے لیے۔
پھر نبی کریم ﷺ مدینہ کی طرف واپس ہوئے، تو ایک اونٹ آپ ﷺ کے سامنے آیا جس کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”یہ اونٹ کس کا ہے؟“ لوگوں نے عرض کیا: فلاں قبیلے کا ہے۔ فرمایا: ”اس نے مجھ سے پناہ مانگی ہے۔“ راوی کہتے ہیں: وہ اسے ذبح کرنا چاہتے تھے، وہ اس سے کام لیتے رہے یہاں تک کہ وہ بوڑھا اور زخمی ہو گیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اسے ذبح نہ کرو، اور اس کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔“