المعجم الكبير للطبراني
باب الألف— حرف الف سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
أبو أسماء مولى آل جعفر، عن أبي رافع باب: ابواسماء، آل جعفر کے آزاد کردہ غلام، کی سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ سے روایات
حدیث نمبر: 991
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ قَزَعَةَ، ثنا الْفُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَحْيَى الْأَسْلَمِيِّ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ، مَوْلَى آلِ جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ: «سَيَكُونُ بَيْنَكَ وَبَيْنَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهَا أَمْرٌ» قَالَ: أَنَا يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: «نَعَمْ» قَالَ: أَنَا مِنْ بَيْنِ أَصْحَابِي؟ قَالَ: «نَعَمْ» قَالَ: فَأَنَا أَشْقَاهُمْ؟ قَالَ: «لَا، وَلَكِنْ إِذَا كَانَ ذَلِكَ فَارْدُدْهَا إِلَى مَأْمَنِهَا»ترجمہ
راوی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”تمہارے اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے درمیان ایک معاملہ پیش آئے گا۔“ انہوں نے عرض کیا: میں، یا رسول اللہ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں۔“ انہوں نے عرض کیا: تو کیا میں اپنے ساتھیوں میں قصوروار ہوں گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں۔“ انہوں نے عرض کیا: تو کیا میں ان میں سب سے زیادہ بدنصیب ہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ جب ایسا ہو تو انہیں ان کی جائے امان میں واپس بھیج دینا۔“