❮
❯
حدیث نمبر: 9848
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا مُحِلُّ بْنُ مُحْرِزٍ الضَّبِّيُّ قَالَ: سَمِعْتُ شَقِيقَ بْنَ سَلَمَةَ يَذْكُرُ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: كَانُوا يُصَلُّونَ خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ قَائِلٌ مِنْهُمُ: السَّلَامُ عَلَى اللهِ، فَقَالَ: " مَنِ الْقَائِلُ: السَّلَامُ عَلَى اللهِ؟ إِنَّ اللهَ هُوَ السَّلَامُ، وَلَكِنْ قُولُوا: التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ "
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: صحابہ کرام نبی کریم ﷺ کے پیچھے نماز پڑھا کرتے تھے، تو ان میں سے کسی کہنے والے نے کہا: السلام علی اللہ (اللہ پر سلام ہو)۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کہنے والا کون ہے: السلام علی اللہ؟ بے شک اللہ ہی السلام (سلامتی دینے والا) ہے، بلکہ یوں کہو: تمام قولی، بدنی اور مالی عبادتیں اللہ ہی کے لیے ہیں، اے نبی! آپ پر سلام ہو اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں، ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر سلام ہو، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد (ﷺ) اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 9848
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 10، صفحہ 39، حدیث 9884