حدیث نمبر: 9818
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ، ثنا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ دَخَلَ، فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ لِبَعْضٍ: أَزِيدَ فِي الصَّلَاةِ؟ قَالَ: «وَمَا ذَاكَ؟» قَالَ: صَلَّيْتَ خَمْسًا، فَأَخَذَ بِيَدِهِ ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الْمَسْجِدِ، فَإِذَا حَلْقَةٌ فِيهَا أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ، فَقَالَ: «حَقًّا مَا يَقُولُ ذُو الْيَدَيْنِ؟» قَالُوا: نَعَمْ يَا نَبِيَّ اللهِ، فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے ہمیں نماز پڑھائی، پھر اندر تشریف لے گئے، تو کچھ لوگوں نے آپس میں کہا: کیا نماز میں کچھ زیادہ کر دیا گیا؟ (ان میں سے ایک نے) کہا: آپ ﷺ نے پانچ رکعتیں پڑھیں۔ تو (کسی نے) آپ ﷺ کا ہاتھ پکڑا اور مسجد کی طرف لے گئے، وہاں ایک حلقہ تھا جس میں سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما بھی موجود تھے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا ذوالیدین جو کہہ رہے ہیں وہ سچ ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں، اے اللہ کے نبی! تو آپ ﷺ قبلہ رخ ہوئے اور دو سجدے کیے۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 9818
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 10، صفحہ 32، حدیث 9854