المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
باب (أحاديث 9766–9906) باب: (احادیث 9766 تا 9906)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سُوَيْدٍ قَالَ: صَلَّى عَلْقَمَةُ بِنَا الظُّهْرَ خَمْسًا، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالُوا لَهُ: صَلَّيْتَ خَمْسًا، قَالَ: مَا فَعَلْتُ، ثُمَّ قَالَ: أَكَذَلِكَ يَا أَعْوَرُ؟ قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، فَانْفَتَلَ فَسَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ، ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ ذَكَرَ عَنْ عَبْدِ اللهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ صَلَّى خَمْسًا، فَرَآهُمْ يَتَوَشْوَشُونَ فَقَالَ: «مَا لَكُمْ؟» فَقَالُوا: أَزِيدَ فِي الصَّلَاةِ؟ قَالَ: «وَمَا ذَاكَ؟» قَالُوا: صَلَّيْتَ خَمْسًا، قَالَ: «لَا، وَلَكِنْ سَهَوْتُ» ، فَانْفَتَلَ فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِابراہیم بن سوید رحمہ اللہ کہتے ہیں: علقمہ (رحمہ اللہ) نے ہمیں ظہر کی نماز پانچ رکعت پڑھائی۔ جب انہوں نے سلام پھیرا تو لوگوں نے ان سے کہا: آپ نے پانچ رکعتیں پڑھائی ہیں۔ انہوں نے کہا: میں نے ایسا نہیں کیا۔ پھر انہوں نے کہا: کیا ایسا ہی ہے اے اعور؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ چنانچہ وہ مڑے اور سہو کے دو سجدے کیے، پھر سلام پھیرا۔ پھر انہوں نے عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ سے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے، یہ روایت بیان کی کہ آپ ﷺ نے پانچ رکعتیں پڑھائیں۔ صحابہ آپس میں سرگوشیاں کرنے لگے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہیں کیا ہوا؟“ انہوں نے عرض کیا: کیا نماز میں اضافہ ہوا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ کیا بات ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: آپ نے پانچ رکعتیں پڑھائی ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ مجھے بھول ہوئی ہے“۔ پھر آپ ﷺ مڑے اور دو سجدے کیے۔