حدیث نمبر: 970
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَمَّادِ بْنِ زُغْبَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ عَبَادِلَ، عَنْ جَدَّتِهِ، امْرَأَةِ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، قَالَ: بَيْنَمَا أَنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَقِيعِ الْغَرْقَدِ أَمْشِي خَلْفَهُ، إِذْ قَالَ: «لَا هُدِيتَ، لَا هُدِيتَ» قَالَ أَبُو رَافِعٍ: فَالْتَفَتُّ فَلَمْ أَرَ أَحَدًا، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا شَأْنِي؟ قَالَ: «لَسْتُ إِيَّاكَ أُرِيدُ، وَلَكِنْ أُرِيدُ صَاحِبَ الْقَبْرِ، يُسْأَلُ عَنِّي فَيَزْعُمُ أَنَّهُ لَا يَعْرِفُنِي» فَإِذَا قَبْرٌ مَرْشُوشٌ عَلَيْهِ حِينَ دُفِنَ صَاحِبُهُ
ترجمہ

سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ بقیع الغرقد میں ان کے پیچھے چل رہا تھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”لا ہدیت، لا ہدیت۔“ ابورافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے مڑ کر دیکھا تو کوئی نظر نہ آیا، تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرا کیا معاملہ ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میری مراد تم نہیں، بلکہ میری مراد قبر والے سے ہے، جس سے میرے بارے میں پوچھا جاتا ہے تو وہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ مجھے نہیں پہچانتا۔“ تو وہ ایسی قبر نکلی جس پر اس کے صاحب کی تدفین کے وقت پانی چھڑکا گیا تھا۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الألف / حدیث: 970
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 327، حدیث 974