حدیث نمبر: 9465
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَهْدِيٍّ، قَالَ: قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: «كَيْفَ أَنْتَ يَا مَهْدِيُّ إِذَا ظُهِرَ لِخِيَارِكُمْ وَاسْتُعْمِلَ عَلَيْكُمْ أَحْدَاثُكُمْ، أَوْ أَشْرَارُكُمْ، وَصُلِّيَتِ الصَّلَاةُ لِغَيْرِ مِيقَاتِهَا؟» قُلْتُ: لَا أَدْرِي، قَالَ: «لَا تَكُنْ جَابِيًا، وَلَا عَرِيفًا، وَلَا شُرَطَيًّا، وَلَا بَرِيدًا، وَصَلِّ الصَّلَاةَ لِمِيقَاتِهَا»
ترجمہ

مہدی بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اے مہدی! تمہارا کیا حال ہو گا جب تمہارے بہترین لوگوں پر غلبہ پا لیا جائے گا اور تم پر تمہارے نوعمر یا برے لوگ حاکم بنا دیے جائیں گے، اور نماز اس کے وقت کے سوا پڑھی جانے لگے گی؟“ میں نے کہا: مجھے نہیں معلوم۔ انہوں نے فرمایا: ”نہ ٹیکس وصول کرنے والا بنو، نہ نقیب (سرکاری نگران)، نہ پولیس والا اور نہ قاصد، اور نماز اس کے وقت پر پڑھو۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 9465
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 299، حدیث 9498