حدیث نمبر: 9463
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: «إِنَّكُمْ فِي زَمَانٍ قَلِيلٌ خُطَبَاؤُهُ كَثِيرٌ عُلَمَاؤُهُ يُطِيلُونَ الصَّلَاةَ، وَيَقْصُرُونَ الْخُطْبَةَ، وَإِنَّهُ سَيَأْتِي عَلَيْكُمْ زَمَانٌ كَثِيرٌ خُطَبَاؤُهُ قَلِيلٌ عُلَمَاؤُهُ يُطِيلُونَ الْخُطْبَةَ، وَيُؤَخِّرُونَ الصَّلَاةَ حَتَّى يُقَالَ هَذَا شَرْقُ الْمَوْتَى» قُلْتُ لَهُ: مَا شَرْقُ الْمَوْتَى؟ قَالَ: «إِذَا اصْفَرَّتِ الشَّمْسُ جِدًّا، فَمَنْ أَدْرَكَ ذَلِكَ مِنْكُمْ فَلْيُصَلِّ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا، فَإِنِ احْتَبَسَ فَلْيُصَلِّ مَعَهُمْ وَلْيَجْعَلْ صَلَاتَهُ وَحْدَهُ الْفَرِيضَةَ وَصَلَاتَهُ مَعَهُمْ تَطَوُّعًا»
ترجمہ

سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”تم ایسے زمانے میں ہو جس کے خطیب کم اور علماء زیادہ ہیں، وہ نماز کو لمبا کرتے اور خطبے کو مختصر کرتے ہیں۔ اور عنقریب تم پر ایسا زمانہ آئے گا جس کے خطیب زیادہ اور علماء کم ہوں گے، وہ خطبے کو لمبا کریں گے اور نماز کو مؤخر کریں گے یہاں تک کہ کہا جائے گا: یہ 'مردوں کے غروب' کا وقت ہے۔“ میں نے ان سے پوچھا: 'مردوں کا غروب' کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: ”جب سورج بہت زیادہ زرد پڑ جائے (غروب کے قریب)، تو تم میں سے جو یہ زمانہ پائے وہ نماز اپنے وقت پر پڑھے، پھر اگر روکا جائے تو ان کے ساتھ (بھی) پڑھے اور اکیلے پڑھی جانے والی نماز کو فرض اور ان کے ساتھ پڑھی جانے والی کو نفل شمار کرے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 9463
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 298، حدیث 9496