المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
باب (أحاديث 8564–9729) باب: (احادیث 8564 تا 9729)
حدیث نمبر: 9453
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ مَعَ ابْنِ مَسْعُودٍ فَرَكَعَ فَمَرَّ عَلَيْهِ رَجُلٌ، وَهُوَ رَاكِعٌ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، فَقَالَ: «صَدَقَ اللهُ وَرَسُولُهُ» ، فَلَمَّا انْصَرَفَ، قَالَ: كَانَ يُقَالُ: «مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ يُسَلِّمَ الرَّجُلُ عَلَى الرَّجُلِ لِلْمَعْرِفَةِ، وَتَتَّخَذُ الْمَسَاجِدُ طُرُقًا، وَأَنْ تَغْلُو النِّسَاءُ، وَالْخَيْلُ، ثُمَّ تَرْخُصُ فَلَا تَغْلُو إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَأَنْ يَتَّجِرَ الرَّجُلُ، وَالْمَرْأَةُ جَمِيعًا»ترجمہ
عبدالاعلیٰ بیان کرتے ہیں کہ میں سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ مسجد میں داخل ہوا، تو انہوں نے رکوع کیا۔ اسی دوران ایک آدمی ان کے پاس سے گزرا جبکہ وہ رکوع میں تھے، تو اس نے انہیں سلام کیا۔ انہوں نے فرمایا: ”اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا۔“ جب وہ (نماز سے) فارغ ہوئے تو فرمایا: کہا جاتا تھا: ”قیامت کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ آدمی صرف پہچان کی بنا پر (دوسرے) آدمی کو سلام کرے، اور مسجدیں گزرگاہیں بنا لی جائیں، اور عورتیں اور گھوڑے مہنگے ہو جائیں پھر سستے ہو جائیں اور قیامت تک پھر مہنگے نہ ہوں، اور مرد اور عورت دونوں مل کر تجارت کریں۔“