حدیث نمبر: 9248
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: «إِنَّ» الشَّمْسَ تَطْلُعُ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ فَلَا تَرْتَفِعُ قَصَبَةٌ إِلَّا فُتِحَ لَهَا بَابٌ مِنْ أَبْوَابِ جَهَنَّمَ، وَإِذَا انْتَصَفَ النَّهَارُ فُتِحَتْ لَهَا أَبْوَابُ جَهَنَّمَ "، قَالَ: فَكَانَ عَبْدُ اللهِ " يَنْهَانَا عَنْ صَلَاتَيْنِ فِي هَاتَيْنِ السَّاعَتَيْنِ: حِينَ تَطْلُعُ حَتَّى تَرْتَفِعَ، وَنِصْفَ النَّهَارِ "
ترجمہ

زر بن حبیش بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”سورج شیطان کے دو سینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے، تو جتنی دیر وہ ابھی تھوڑا بلند ہوتا ہے، جہنم کے دروازوں میں سے ایک دروازہ اس کے لیے کھول دیا جاتا ہے، اور جب دوپہر ہوتی ہے تو جہنم کے دروازے اس کے لیے کھول دیے جاتے ہیں۔“ راوی کہتے ہیں: چنانچہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ ہمیں ان دو اوقات میں نماز پڑھنے سے منع کیا کرتے تھے: سورج طلوع ہوتے وقت یہاں تک کہ وہ بلند ہو جائے، اور دوپہر کے وقت۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 9248
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 258، حدیث 9280