حدیث نمبر: 9161
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ عَبْدَ اللهِ عَنْ وَقْتِ الظُّهْرِ؟ قَالَ: «أَنْ يَنْتَعِلَ الرَّجُلُ ظِلَّهُ إِلَى أَنْ يَصِيرَ ظِلُّ كُلِّ شَيْءٍ مِثْلَهُ» ، وَسَأَلَهُ عَنْ وَقْتِ الْعَصْرِ؟ فَقَالَ: «صَلِّهَا، وَالشَّمْسُ بَيْضَاءُ حَيَّةٌ» ، وَسَأَلَ عَنْ وَقْتِ الْمَغْرِبِ؟ فَقَالَ: «إِذَا وَقَعَتِ الشَّمْسُ»
ترجمہ

علقمہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے ظہر کے وقت کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: ”جب آدمی کا سایہ سمٹ کر اس کے قدموں کے نیچے آ جائے، اور یہ وقت اس وقت تک رہتا ہے جب تک ہر چیز کا سایہ اس کے برابر نہ ہو جائے۔“ اس نے عصر کے وقت کے بارے میں پوچھا تو فرمایا: ”اسے اس وقت پڑھو جب سورج ابھی سفید اور تیز ہو۔“ اور اس نے مغرب کے وقت کے بارے میں پوچھا تو فرمایا: ”جب سورج غروب ہو جائے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 9161
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 243، حدیث 9193