المعجم الكبير للطبراني
باب الألف— حرف الف سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
علي بن الحسين، عن أبي رافع باب: علی بن حسین کی سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ رُسْتَةَ، قَالَا: ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي الرَّبِيعٍ السَّمَّانُ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا ضَحَّى اشْتَرَى كَبْشَيْنِ سَمِينَيْنِ أَقْرَنَيْنِ أَمْلَحَيْنِ، حَتَّى إِذَا خَطَبَ النَّاسَ وَصَلَّى أَتَى بِأَحَدِهِمَا وَهُوَ قَائِمٌ فِي مُصَلَّاهُ فَذَبَحَهُ بِنَفْسِهِ بِالْمُدْيَةِ، ثُمَّ يَقُولُ: «هَذَا عَنْ أُمَّتِي جَمِيعًا، مَنْ شَهِدَ لَكَ بِالتَّوْحِيدِ، وَشَهِدَ لِي بِالْبَلَاغِ» ثُمَّ يُؤْتَى بِالْآخَرِ فَيَذْبَحُهُ هُوَ بِنَفْسِهِ، ثُمَّ يَقُولُ: «اللهُمَّ هَذَا عَنْ مُحَمَّدٍ، وَآلِ مُحَمَّدٍ» فَيُعْطِيهِمْ جَمِيعًا الْمَسَاكِينَ، وَأَكَلَ هُوَ وَأَهْلُهُ مِنْهُمَاسیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم ﷺ جب قربانی کرتے تو دو موٹے، سینگوں والے، چتکبرے مینڈھے خریدتے، یہاں تک کہ جب آپ ﷺ لوگوں کو خطبہ دیتے اور نماز پڑھاتے تو ان میں سے ایک آپ ﷺ کے پاس لایا جاتا جبکہ آپ ﷺ اپنی جائے نماز میں کھڑے ہوتے، تو آپ ﷺ اسے اپنے ہاتھ سے چھری سے ذبح فرماتے، پھر فرماتے: ”یہ میری پوری امت کی طرف سے ہے، جس نے تیری توحید کی گواہی دی اور میرے پہنچانے کی گواہی دی۔“ پھر دوسرا لایا جاتا، اسے بھی آپ ﷺ خود ذبح فرماتے، پھر فرماتے: ”اے اللہ! یہ محمد اور آلِ محمد کی طرف سے ہے۔“ پھر دونوں مسکینوں کو دے دیتے، اور خود اور اپنے گھر والے ان میں سے کھاتے۔