حدیث نمبر: 9159
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عَبْدِ اللهِ مُتَحَنِّطًا، فَلَمَّا رَآهُ وَوَجَدَ رِيحَ الْحَنُوطِ قَالَ: «اللهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهِ» ، قَالَ: فَجَاءَهُ فَذَكَرَ لَهُ أَنَّهُ وَقَعَ عَلَى جَارِيَةِ امْرَأَتِهِ فَأَقِمْ عَلِيَّ الْحَدَّ، قَالَ: «اسْتَغْفِرِ اللهَ وَتُبْ إِلَيْهِ، وَاسْتُرْ عَلَى نَفْسِكَ، وَإِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ تَعْتِقَهَا فَأَعْتِقْهَا»
ترجمہ

ابراہیم (نخعی) بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی خوشبو (حنوط) لگائے ہوئے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، جب انہوں نے اسے دیکھا اور خوشبو کی مہک محسوس کی تو فرمایا: ”اے اللہ! میں اس کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔“ پھر وہ آدمی ان کے پاس آیا اور بتایا کہ اس نے اپنی بیوی کی لونڈی سے بدکاری کر لی ہے، (لہٰذا) مجھ پر حد قائم کیجیے۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اللہ سے استغفار کرو اور اس کی طرف توبہ کرو، اور اپنے آپ پر پردہ ڈالے رکھو، اور اگر تم اسے آزاد کر سکتے ہو تو آزاد کر دو۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 9159
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 243، حدیث 9191