حدیث نمبر: 9157
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي هُبَيْرَةُ بْنُ يَرِيمَ، أَنَّهُ: سَمِعَ ابْنَ مَسْعُودٍ، يَقُولُ: " إِنَّ مِنْ آخِرِ أَهْلِ الْجَنَّةِ دُخُولًا رَجُلًا مَرَّ بِهِ عَزَّ وَجَلَّ فَقَالَ لَهُ: قُمْ فَادْخُلِ الْجَنَّةَ، فَأَقْبَلَ عَلَيْهِ عَابِسًا فَقَالَ: وَهَلْ أَبْقَيْتَ لِي شَيْئًا؟ قَالَ: نَعَمْ، لَكَ مِثْلَ مَا طَلَعَتْ عَلَيْهَا الشَّمْسُ أَوْ غَرَبَتْ "
ترجمہ

ہبیرہ بن یریم بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے سنا: ”جنت میں سب سے آخر میں داخل ہونے والوں میں سے ایک آدمی وہ ہوگا جس کے پاس سے اللہ عزوجل گزریں گے اور اس سے فرمائیں گے: اٹھو اور جنت میں داخل ہو جاؤ۔ وہ ترش رو ہو کر متوجہ ہو گا اور کہے گا: کیا تو نے میرے لیے کچھ باقی چھوڑا ہے؟ اللہ فرمائے گا: ہاں، تیرے لیے اتنا (جہان) ہے جتنے پر سورج طلوع اور غروب ہوتا ہے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 9157
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 242، حدیث 9189