المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
باب (أحاديث 8564–9729) باب: (احادیث 8564 تا 9729)
حدیث نمبر: 9146
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَصَمُّ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ، قَالَ: دَخَلَ عَبْدُ اللهِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ الْمَسْجِدَ وَعَلَيْهِ ثِيَابٌ بِيضٌ نَقَاءٌ حِسَانٌ فَنَظَرَ إِلَى مَكَانٍ فِيهِ سَعَةٌ فَجَلَسَ، وَلَمْ يَتَخَطَّ أَحَدًا، قَالَ: وَخَرَجَ الْإِمَامُ فَإِذَا رَجُلَانِ يَتَكَلَّمَانِ فَأَخَذَ مِنَ الْحَصَا فَرَمَاهُمَا فَنَظَرَا إِلَيْهِ فَسَكَتَا، فَلَمَّا نَزَلَ الْإِمَامُ قَالَ: «أَلَمْ تَعَلْمَا أَنَّكُمَا فِي صَلَاةٍ»ترجمہ
…اور کسی کو پھلانگا نہیں۔ (راوی) کہتے ہیں: پھر امام نکلے تو دو آدمی باتیں کر رہے تھے، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کنکری اٹھا کر ان کی طرف پھینکی، انہوں نے ان کی طرف دیکھا تو خاموش ہو گئے۔ جب امام (منبر سے) اترے تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”کیا تمہیں معلوم نہیں کہ تم نماز میں تھے؟“