❮
❯
حدیث نمبر: 9146
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَصَمُّ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ، قَالَ: دَخَلَ عَبْدُ اللهِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ الْمَسْجِدَ وَعَلَيْهِ ثِيَابٌ بِيضٌ نَقَاءٌ حِسَانٌ فَنَظَرَ إِلَى مَكَانٍ فِيهِ سَعَةٌ فَجَلَسَ، وَلَمْ يَتَخَطَّ أَحَدًا، قَالَ: وَخَرَجَ الْإِمَامُ فَإِذَا رَجُلَانِ يَتَكَلَّمَانِ فَأَخَذَ مِنَ الْحَصَا فَرَمَاهُمَا فَنَظَرَا إِلَيْهِ فَسَكَتَا، فَلَمَّا نَزَلَ الْإِمَامُ قَالَ: «أَلَمْ تَعَلْمَا أَنَّكُمَا فِي صَلَاةٍ»
ترجمہ

ابو قیس رحمہ اللہ کہتے ہیں: سیدنا عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ جمعہ کے دن مسجد میں داخل ہوئے، انہوں نے صاف ستھرے اور خوبصورت سفید کپڑے پہن رکھے تھے، تو انہوں نے ایک کشادہ جگہ دیکھی اور وہیں بیٹھ گئے، اور کسی کو پھلانگا نہیں۔ (راوی) کہتے ہیں: پھر امام نکلے تو دو آدمی باتیں کر رہے تھے، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کنکری اٹھا کر ان کی طرف پھینکی، انہوں نے ان کی طرف دیکھا تو خاموش ہو گئے۔ جب امام (منبر سے) اترے تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”کیا تمہیں معلوم نہیں کہ تم نماز میں تھے؟“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 9146
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 240، حدیث 9178