حدیث نمبر: 9121
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا الْمَسْعُودِيُّ، ثنا قَيْسُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، أَنَّ رَجُلًا لَقِيَ رَجُلًا بِهِ خَنَازِيرُ، فَقَالَ: لَوْلَا أَنَّهُ قَدْ أُخِذَ عَلَيَّ لَحَدَّثْتُكَ، فَبَلَغَ ذَلِكَ عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ، فَلَقِيَهُ فَقَالَ: «حَدِّثْ» ، فَقَالَ: إِنَّهُ قَدْ أُخِذَ عَلَيَّ أَنْ لَا أُحَدِّثَ بِهِ أَحَدًا، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللهِ: «إِنَّهُ لَمْ يَكُنْ يَنْبَغِي أَنْ يَأَخْذَ عَلَيْكَ، كَفِّرْ مِنْ يَمِينِكَ وَحَدِّثْ بِهِ» ، قَالَ: اعْمِدْ إِلَى أَبْوَالِ إِبِلِ أَرَاكٍ - يَعْنِي تَأْكُلُ الْأَرَاكَ - فَاطْبُخْهُ حَتَّى يَنْعَقِدَ، ثُمَّ اشْرَبْهُ وَخُذْ وَرَقَ الْأَرَاكِ فَدُقَّهُ وَذُرَّهُ عَلَيْهِ، قَالَ: فَفَعَلَ فَبَرَأَ
ترجمہ

طارق بن شہاب بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے خنازیر (گلٹیوں کی بیماری) میں مبتلا ایک شخص سے ملاقات کی تو اس (مریض) نے کہا: اگر مجھ سے (اس کا علاج نہ بتانے کا) عہد نہ لیا گیا ہوتا تو میں تمہیں بتا دیتا۔ یہ بات سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو پہنچی تو وہ اس سے ملے اور فرمایا: ”بتاؤ۔“ اس نے کہا: مجھ سے یہ عہد لیا گیا ہے کہ میں یہ کسی کو نہ بتاؤں۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اسے یہ عہد لینا نہیں چاہیے تھا، اپنی قسم کا کفارہ ادا کرو اور یہ بات بتا دو۔“ اس نے کہا: ان اونٹنیوں کے پیشاب کی طرف جاؤ جو اراک (پیلو کا درخت) کھاتی ہیں، اسے پکاؤ یہاں تک کہ گاڑھا ہو جائے، پھر اسے پی لو، اور اراک کے پتے لے کر کوٹ لو اور (زخم پر) چھڑک دو۔ (راوی) کہتے ہیں: اس نے ایسا ہی کیا تو شفا پا گیا۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 9121
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 235، حدیث 9153