حدیث نمبر: 9119
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ التُّسْتَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْحَرَشِيُّ، ثنا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّهُ: كَانَ يَقُولُ: " لَا تَخْلِطُوا بِالْقُرْآنِ مَا لَيْسَ فِيهِ، فَإِنَّمَا هُمَا مُعَوِّذَتَانِ تَعَوَّذَ بِهِمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ، وَقُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ "، وَكَانَ عَبْدُ اللهِ يَمْحُوهُمَا مِنَ الْمُصْحَفِ
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے: ”قرآن میں وہ چیز شامل نہ کرو جو اس میں نہیں ہے، یہ تو صرف دو معوذتیں ہیں جن کے ذریعے نبی کریم ﷺ پناہ مانگا کرتے تھے: ”کہہ دیجیے: میں صبح کے رب کی پناہ مانگتا ہوں“ (سورۃ الفلق) اور ”کہہ دیجیے: میں لوگوں کے رب کی پناہ مانگتا ہوں“ (سورۃ الناس)۔“ اور سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ انہیں مصحف سے مٹا دیا کرتے تھے۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 9119
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 235، حدیث 9151