المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
باب (أحاديث 8564–9729) باب: (احادیث 8564 تا 9729)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّائِغُ الْمَكِّيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ أَبِي هُبَيْرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ: «إِنَّ فِي الْقُرْآنِ لَآيَتَيْنِ مَا أَذْنَبَ عَبْدٌ ذَنْبًا، ثُمَّ تَلَاهُمَا، وَاسْتَغْفَرَ اللهَ إِلَّا غُفِرَ لَهُ» ، فَسَأَلُوهُ عَنْهُمَا فَلَمْ يُخْبِرْهُمْ، فَقَالَ عَلْقَمَةُ، وَالْأَسْوَدُ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ: قُمْ بِنَا، فَقَامَا إِلَى الْمَنْزِلِ فَأَخَذَا الْمُصْحَفَ فَتَصَفَّحَا الْبَقَرَةَ فَقَالَا: مَا رَأَيْنَاهُمَا، ثُمَّ أَخَذَا فِي النِّسَاءِ حَتَّى انْتَهَيَا إِلَى هَذِهِ الْآيَةِ: {وَمَنْ يَعْمَلْ سُوءًا أَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهُ، ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللهَ يَجِدِ اللهَ غَفُورًا رَحِيمًا} [النساء: ١١٠] فَقَالَ: هَذِهِ وَاحِدَةٌ، ثُمَّ تَصَفَّحَا آلَ عِمْرَانَ حَتَّى انْتَهَيَا إِلَى قَوْلِهِ: {وَالَّذِينَ إِذَا فَعَلُوا فَاحِشَةً أَوْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ ذَكَرُوا اللهَ فَاسْتَغْفَرُوا لِذُنُوبِهِمْ وَمَنْ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا اللهُ وَلَمْ يُصِرُّوا عَلَى مَا فَعَلُوا} [آل عمران: ١٣٥] قَالَا: هَذِهِ أُخْرَى، ثُمَّ طَبَّقَا الْمُصْحَفَ، ثُمَّ أَتَيَا عَبْدَ اللهِ فَقَالَا: هُمَا هَاتَانِ الْآيَتَانِ؟ قَالَ: نَعَمْسیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”قرآن میں دو ایسی آیتیں ہیں کہ کوئی بندہ گناہ نہیں کرتا، پھر انہیں پڑھ کر اللہ سے بخشش مانگتا ہے مگر اسے بخش دیا جاتا ہے۔“ لوگوں نے ان کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے نہیں بتایا۔ تو علقمہ اور اسود نے ایک دوسرے سے کہا: چلو ہمارے ساتھ، وہ دونوں گھر گئے اور مصحف لے کر سورۃ البقرہ میں تلاش کرنے لگے، تو کہا: ہمیں یہ نہیں ملیں۔ پھر سورۃ النساء میں تلاش کیا یہاں تک کہ اس آیت پر پہنچے: ”اور جو کوئی برائی کرے یا اپنی جان پر ظلم کرے، پھر اللہ سے بخشش مانگے تو وہ اللہ کو بخشنے والا، مہربان پائے گا“ [سورۃ النساء: 110]، تو کہا: یہ ایک ہے۔ پھر سورۃ آل عمران میں تلاش کیا یہاں تک کہ اس آیت پر پہنچے: ”اور جو لوگ کوئی بےحیائی کا کام کر بیٹھیں یا اپنی جانوں پر ظلم کر لیں، اللہ کو یاد کر کے اپنے گناہوں کی معافی مانگ لیتے ہیں، اور اللہ کے سوا گناہ کون بخشتا ہے، اور وہ اپنے کیے پر اڑتے نہیں“ [سورۃ آل عمران: 135]، دونوں نے کہا: یہ دوسری ہے۔ پھر مصحف بند کر کے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا: کیا یہی وہ دونوں آیتیں ہیں؟ فرمایا: ”ہاں۔“