حدیث نمبر: 9028
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا الْفِرْيَابِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ هِلَالٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، فَسَأَلَهُ عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ: {وَمَنْ يُوقَ شُحَّ نَفْسِهِ فَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ} [الحشر: ٩] وَإِنِّي امْرُؤٌ مَا قَدَرْتُ أَنْ لَا يَخْرُجَ مِنِّي شَيْءٌ وَقَدْ خَشِيتُ أَنْ أَكُونَ قَدْ أَصَابَتْنِي هَذِهِ الْآيَةُ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ: «ذَكَرْتَ الْبُخْلَ، وَبِئْسَ الشَّيْءُ الْبُخْلُ، وَأَمَّا مَا ذَكَرَ اللهُ فَلَيْسَ مَا قُلْتَ، ذَاكَ أَنْ تَعْمِدَ إِلَى مَالِ غَيْرِكَ أَوْ مَالِ أَخِيكَ فَتَأْكُلَهُ»
ترجمہ

…”اور جو اپنے نفس کی حرص و بخل سے محفوظ رکھا گیا وہی کامیاب لوگ ہیں“ [سورۃ الحشر: 9]، اور میں ایسا آدمی ہوں کہ میرے پاس سے (مال کا) کچھ نکلنا میرے بس میں نہیں، اور مجھے ڈر ہے کہ میں اسی آیت کا مصداق بن گیا ہوں۔ تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تم نے بخل کا ذکر کیا، اور بخل بری چیز ہے، لیکن اللہ نے جو اس آیت میں ذکر کیا وہ وہ نہیں جو تم نے سمجھا، وہ تو یہ ہے کہ تم جان بوجھ کر کسی دوسرے کے یا اپنے بھائی کے مال کی طرف بڑھو اور اسے کھا جاؤ۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 9028
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 218، حدیث 9060