حدیث نمبر: 9014
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا الْفِرْيَابِيُّ، ثنا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا فِي الْمَسْجِدِ إِذْ دَخَلَ عَلَيْنَا رَجُلٌ يُحَدِّثُ، قَالَ: يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ دُخَانٌ فَيَأْخُذُ بِأَسْمَاعِ الْمُنَافِقِينَ، وَيَأْخُذُ الْمُؤْمِنِينَ كَهَيْئَةِ الزُّكَامِ، فَدَخَلْنَا عَلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ فَحَدَّثْنَاهُ وَهُوَ مُتَّكِئٌ فَجَلَسَ فَقَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، مَنْ عَلِمَ عِلْمًا فَلْيَتَكَلَّمْ بِهِ، وَمَنْ لَمْ يَعْلَمْ فَلْيَقُلْ: اللهُ أعْلَمُ، فَإِنَّهُ مَنْ عِلْمِ الرَّجُلِ أَنْ يَقُولَ لِمَا لَا يَعْلَمُ: اللهُ أَعْلَمُ، وَقَدْ قَالَ اللهُ لِنَبِيِّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: {قُلْ مَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ} [ص: ٨٦] وَسَأُحَدِّثُكُمْ عَنِ الدُّخَانِ: إِنَّ قُرَيْشًا لَمَّا اسْتَعْصَوْا وَأَبْطَئُوا عَنِ الْإِسْلَامِ دَعَا عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «اللهُمَّ أَعِنِّي عَلَيْهِمْ بِسَبْعٍ كَسَبْعِ يُوسُفَ» ، فَأَصَابَتْهُمْ سَنَةٌ حَتَّى حَصَتْ كُلَّ شَيْءٍ حَتَّى أَكَلُوا الْمَيْتَةَ وَالْعِظَامَ، حَتَّى جَعَلَ الرَّجُلُ يَرَى مَا بَيْنَهُ، وَبَيْنَ السَّمَاءِ دُخَانًا، فَذَلِكَ قَوْلُهُ: {فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُبِينٍ يَغْشَى النَّاسَ هَذَا عَذَابٌ أَلِيمٌ رَبَّنَا اكْشِفْ عَنَّا الْعَذَابَ إِنَّا مُؤْمِنُونَ} [الدخان: ١١] فَكَشَفَ عَنْهُمْ فَعَادُوا فِي كُفْرِهِمْ، فَأَخَذَهُمْ يَوْمَ بَدْرٍ فَذَلِكَ قَوْلُهُ: {يَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْكُبْرَى إِنَّا مُنْتَقِمُونَ} [الدخان: ١٦] قَالَ: الْبَطْشَةُ الْكُبْرَى يَوْمُ بَدْرٍ
ترجمہ

…”اس پر میں تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا اور نہ میں بناوٹ کرنے والوں میں سے ہوں“ [سورۃ ص: 86]۔ اور میں تمہیں دخان (دھوئیں) کے بارے میں بتاتا ہوں: جب قریش نے سرکشی کی اور اسلام لانے میں تاخیر کی تو رسول اللہ ﷺ نے ان کے خلاف بددعا کی اور فرمایا: ”اے اللہ! یوسف علیہ السلام کے سات (قحط کے) برسوں جیسے سات برسوں سے میری ان کے خلاف مدد فرما۔“ تو انہیں ایسا قحط پڑا کہ ہر چیز ختم ہو گئی یہاں تک کہ انہوں نے مردار اور ہڈیاں کھائیں، یہاں تک کہ آدمی اپنے اور آسمان کے درمیان دھواں سا دیکھنے لگا، اور یہی اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ”پس تم اس دن کا انتظار کرو جب آسمان صریح دھواں لے کر آئے گا، جو لوگوں کو ڈھانپ لے گا، یہ دردناک عذاب ہے، اے ہمارے رب! ہم سے یہ عذاب ٹال دے، ہم ایمان لاتے ہیں“ [سورۃ الدخان: 11]۔ تو اللہ نے ان سے عذاب ٹال دیا مگر وہ پھر اپنے کفر کی طرف لوٹ گئے، تو اللہ نے انہیں بدر کے دن پکڑ لیا، اور یہی اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ”جس دن ہم بڑی پکڑ سے پکڑیں گے، بیشک ہم بدلہ لینے والے ہیں“ [سورۃ الدخان: 16]، فرمایا: ”بڑی پکڑ سے مراد بدر کا دن ہے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 9014
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 214، حدیث 9046