❮
❯
حدیث نمبر: 896
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: كُنْتُ قَائِدَ أَبِي حِينَ خَفَّ بَصَرُهُ، فَإِذَا خَرَجْتُ بِهِ إِلَى الْجُمُعَةِ اسْتَغْفَرَ لِأَبِي أُمَامَةَ أَسْعَدَ بْنِ زُرَارَةَ، فَقُلْتُ: يَا أَبَتَاهُ، أَرَأَيْتَ اسْتِغْفَارَكَ لِأَسْعَدَ بْنِ زُرَارَةَ كُلَّمَا سَمِعْتَ الْأَذَانَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ؟ فَقَالَ: يَا بُنَيَّ إِنَّ «أَسْعَدَ أَوَّلُ مَنْ جَمَعَ بِنَا بِالْمَدِينَةِ قَبْلَ مَقْدِمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَزْمِ مِنْ حَرَّةِ بَنِي بَيَاضَةَ فِي نَقِيعِ الْهَضبَاتِ» قُلْتُ: وَكَمْ كُنْتُمْ يَوْمَئِذٍ؟ قَالَ: أَرْبَعِينَ رَجُلًا
ترجمہ

عبدالرحمن بن کعب بن مالک رحمہ اللہ کہتے ہیں: جب میرے والد کی بینائی کمزور ہو گئی تو میں ان کا راہنما تھا، تو جب میں انہیں جمعہ کے لیے لے کر نکلتا تو وہ ابوامامہ سیدنا اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کے لیے استغفار کرتے، میں نے عرض کیا: ابا جان! آپ ہر بار جمعہ کے دن اذان سنتے ہی اسعد بن زرارہ کے لیے استغفار کیوں کرتے ہیں؟ انہوں نے کہا: بیٹا! اسعد پہلا شخص تھا جس نے نبی کریم ﷺ کی تشریف آوری سے پہلے مدینہ میں ہمیں جمعہ کے لیے جمع کیا، بنو بیاضہ کے حرے کی ایک نشیبی جگہ میں، نقیع الہضبات میں۔ میں نے پوچھا: اس دن آپ لوگ کتنے تھے؟ انہوں نے کہا: چالیس آدمی۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الألف / حدیث: 896
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 305، حدیث 900