❮
❯
حدیث نمبر: 8917
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا الْمَسْعُودِيُّ، عَنِ الْقَاسِمِ قَالَ: قَدِمَ عَبْدُ اللهِ وَقَدْ بَنَى سَعْدٌ الْقَصْرَ، وَاتَّخَذَ مَسْجِدًا فِي أَصْحَابِ التَّمْرِ، فَكَانَ يَخْرُجُ إِلَيْهِ فِي الصَّلَوَاتِ، فَلَمَّا وَلِيَ عَبْدُ اللهِ بَيْتَ الْمَالِ نَقَبَ بَيْتَ الْمَالِ، فَأَخَذَ الرَّجُلَ، فَكَتَبَ عَبْدُ اللهِ إِلَى عُمَرَ، فَكَتَبَ عُمَرُ: «أَنْ لَا تَقْطَعْهُ، وَانْقُلِ الْمَسْجِدَ، وَاجْعَلْ بَيْتَ الْمَالِ مِمَّا يَلِي الْقِبْلَةَ، فَإِنَّهُ لَا يَزَالُ فِي الْمَسْجِدِ مَنْ يُصَلِّي» ، فَنَقَلَهُ عَبْدُ اللهِ وَخَطَّ هَذِهِ الْخُطَّةَ، وَكَانَ الْقَصْرُ الَّذِي بَنَى سَعْدٌ شَاذَرَ وَإِنْ كَانَ الْإِمَامُ يَقُومُ عَلَيْهِ «فَأَمَرَ بِهِ عَبْدُ اللهِ فَنُقِضَ حَتَّى اسْتَوَى مَقَامُ الْإِمَامِ مَعَ النَّاسِ»
ترجمہ

قاسم رحمہ اللہ کہتے ہیں: سیدنا عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ (کوفہ) پہنچے تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ محل بنا چکے تھے، اور انہوں نے کھجور فروشوں (کے محلے) میں ایک مسجد بنا لی تھی اور نمازوں کے لیے وہیں جایا کرتے تھے۔ جب سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیت المال کے نگران بنے تو (کسی نے) بیت المال میں نقب لگائی (چوری کے لیے سرنگ کھودی)، تو انہوں نے اس آدمی کو پکڑ لیا۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو (اس بارے میں) لکھا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے لکھا: ”اس کا ہاتھ نہ کاٹو، اور مسجد کو منتقل کر دو، اور بیت المال کو قبلے کی طرف بنا دو، کیونکہ مسجد میں ہمیشہ کوئی نہ کوئی نماز پڑھنے والا موجود رہے گا۔“ چنانچہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اسے منتقل کر دیا اور یہ جگہ متعین کر دی۔ اور وہ قصر جو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے بنوایا تھا، اونچا نیچا (ناہموار) تھا حالانکہ امام اسی پر کھڑا ہوتا تھا، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اسے گرانے کا حکم دیا یہاں تک کہ امام کی جگہ لوگوں کے برابر ہو گئی۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 8917
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 192، حدیث 8949