حدیث نمبر: 8897
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا الْمَسْعُودِيُّ، عَنِ الْقَاسِمِ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ: «لَا تَعْجَلُوا بِحَمْدِ النَّاسِ، وَلَا بِذَمِّهِمْ، فَإِنَّكَ - أَوْ لَعَلَّكَ - أَنْ تَرَى مِنْ أَخِيكَ الْيَوْمَ شَيْئًا يُعْجِبُكَ لَعَلَّهُ أَنْ يَسُوءَكَ غَدًا، وَلَعَلَّكَ أَنْ تَرَى مِنْهُ الْيَوْمَ شَيْئًا يَسُوءُكَ لَعَلَّهُ يُعْجِبُكَ غَدًا، وَإِنَّ النَّاسَ يُعَيِّرُونَ، وَإِنَّمَا يَغْفِرُ اللهُ الذُّنُوبَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَاللهُ أَرْحَمُ بِعَبْدِهِ يَوْمَ يَلْقَاهُ مِنْ أُمِّ وَاحِدٍ فَرَشَتْ لَهُ بِأَرْضٍ فِي، ثُمَّ لَمَسَتْهُ فَإِنْ كَانَتْ شَوْكَةٌ كَانَتْ بِهَا قَبْلَهُ، وَإِنْ كَانَتْ لَدْغَةٌ كَانَتْ بِهَا قَبْلَهُ»
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”لوگوں کی تعریف میں جلدی نہ کرو، اور نہ ہی ان کی مذمت میں، کیونکہ ہو سکتا ہے تم آج اپنے بھائی میں کوئی ایسی چیز دیکھو جو تمہیں پسند آئے، مگر وہی چیز کل تمہیں ناپسند ہو، اور ہو سکتا ہے تم آج اس میں کوئی ایسی چیز دیکھو جو تمہیں ناپسند ہو، مگر وہی کل تمہیں پسند آئے۔ اور لوگ ایک دوسرے کو عیب لگاتے ہیں، حالانکہ اللہ گناہوں کو صرف قیامت کے دن معاف فرماتا ہے، اور اللہ اپنے بندے سے ملاقات کے دن اس ماں سے بھی زیادہ رحم کرنے والا ہے جو اپنے بچے کے لیے زمین پر بچھونا بچھائے، پھر اسے چھو کر دیکھے کہ اگر کوئی کانٹا ہو تو وہ اس سے پہلے (خود چبھ کر دیکھ لے)، اور اگر کوئی ڈنک ہو تو وہ اس سے پہلے خود اسے محسوس کر لے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 8897
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 189، حدیث 8929