المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
باب (أحاديث 8564–9729) باب: (احادیث 8564 تا 9729)
حَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَمِّ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، وَرُبَّمَا قَالَ: عَنْ حُرَيْثِ بْنِ ظُهَيْرٍ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ: " أَيُّهَا النَّاسُ قَدْ أَتَى عَلَيْنَا زَمَانٌ لَسْنَا نَقْضِي، وَلَسْنَا هُنَالِكَ، وَإِنَّ اللهَ قَدْ بَلَّغَنَا مَا تَرَوْنَ فَمَنْ عُرِضَ مِنْكُمْ لَهُ قَضَاءٌ بَعْدَ الْيَوْمِ فَلْيَقْضِ فِيهِ بِمَا فِي كِتَابِ اللهِ، فَإِنْ أَتَاهُ أَمْرٌ لَيْسَ فِي كِتَابِ اللهِ فَلْيَقْضِ فِيهِ بِمَا قَضَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِنْ أَتَاهُ أَمْرٌ لَيْسَ فِي كِتَابِ اللهِ، وَلَمْ يَقْضِ فِيهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلْيَقْضِ بِمَا قَضَى بِهِ الصَّالِحُونَ، فَإِنْ أَتَاهُ أَمْرٌ لَيْسَ فِي كِتَابِ اللهِ وَلَمْ يَقْضِ فِيهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ يَقْضِ بِهِ الصَّالِحُونَ فَلْيَجْتَهِدْ، وَلَا يَقُولُ أَحَدُكُمْ: إِنِّي أَخَافُ، وَإِنِّي أَرَى، فَإِنَّ الْحَلَالَ بَيِّنٌ، وَالْحَرَامَ بَيِّنٌ، وَبَيْنَ ذَلِكَ أُمُورٌ مُشْتَبِهَةٌ، فَدَعْ مَا يَرِيبُكَ إِلَى مَا لَا يَرِيبُكَ "سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اے لوگو! ہم پر ایک ایسا زمانہ آ چکا ہے کہ ہم خود کو اس قابل نہیں سمجھتے کہ فیصلہ کریں، اور نہ ہم اس مقام کے اہل ہیں، اور اللہ نے ہمیں وہ مرتبہ دیا ہے جو تم دیکھ رہے ہو۔ سو تم میں سے جسے آج کے بعد کوئی فیصلہ کرنا پڑے تو وہ اس میں اللہ کی کتاب کے مطابق فیصلہ کرے، اگر اسے کوئی ایسا معاملہ پیش آئے جو اللہ کی کتاب میں نہ ہو تو وہ رسول اللہ ﷺ کے فیصلے کے مطابق فیصلہ کرے، اگر اسے کوئی ایسا معاملہ پیش آئے جو نہ اللہ کی کتاب میں ہو اور نہ رسول اللہ ﷺ نے اس میں فیصلہ فرمایا ہو، تو وہ نیک لوگوں کے فیصلے کے مطابق فیصلہ کرے، اور اگر اسے کوئی ایسا معاملہ پیش آئے جو نہ اللہ کی کتاب میں ہو، نہ رسول اللہ ﷺ نے اس میں فیصلہ فرمایا ہو، اور نہ نیک لوگوں نے اس میں فیصلہ کیا ہو، تو وہ اجتہاد کرے، اور تم میں سے کوئی یہ نہ کہے: مجھے ڈر ہے، یا میری رائے یہ ہے، کیونکہ حلال واضح ہے اور حرام واضح ہے، اور ان کے درمیان کچھ مشتبہ امور ہیں، سو جو چیز تمہیں شک میں ڈالے اسے چھوڑ کر وہ چیز اختیار کرو جو شک میں نہ ڈالے۔“