المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
باب (أحاديث 8564–9729) باب: (احادیث 8564 تا 9729)
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ رَجَاءَ، ثنا الْمَسْعُودِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِي فَاخِتَةَ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: قَرَأَ عَبْدُ اللهِ: {إِلَّا مَنِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمَنِ عَهْدًا} [مريم: ٨٧] ، قَالَ: " يَقُولُ اللهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ: مَنْ كَانَ لَهُ عِنْدِي عَهْدٌ فَلْيَقُمْ "، قَالُوا: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، فَعَلِّمْنَا، قَالَ: " قُولُوا: اللهُمَّ فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ، وَالْأَرْضِ، عَالِمَ الْغَيْبِ، وَالشَّهَادَةِ، إِنِّي أعْهَدُ إِلَيْكَ فِي هَذِهِ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا أَنَّكَ إِنْ تَكِلْنِي إِلَى نَفْسِي تُقَرِّبْنِي مِنَ الشَّرِّ، وَتُبَاعِدْنِي مِنَ الْخَيْرِ، وَإِنِّي لَا أَثِقُ إِلَّا بِرَحْمَتِكَ، فَاجْعَلْهُ لِي عِنْدَكَ عَهْدًا تُؤَدِّيهِ إِلَيَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيعَادَ " قَالَ: وَزَادَ فِيهَا زَكَرِيَّا أَبُو يَحْيَى، عَنِ الْقَاسِمِ: «خَائِفًا مُسْتَجِيرًا مُسْتَغْفِرًا رَاغِبًا إِلَيْكَ»اسود بن یزید رحمہ اللہ کہتے ہیں: سیدنا عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھی: ”سوائے اس کے جس نے رحمن کے ہاں کوئی عہد لے رکھا ہو“ [سورۃ مریم: 87]، فرمایا: ”اللہ قیامت کے دن فرمائے گا: جس کا میرے ہاں کوئی عہد ہو وہ کھڑا ہو جائے۔“ لوگوں نے کہا: اے ابوعبدالرحمٰن! ہمیں سکھائیے، فرمایا: ”کہو: اے اللہ! آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے، غیب اور حاضر کے جاننے والے! میں اس دنیا کی زندگی میں تجھ سے یہ عہد کرتا ہوں کہ اگر تو مجھے میرے نفس کے سپرد کر دے تو وہ مجھے برائی کے قریب اور بھلائی سے دور کر دے گا، اور میں تیری رحمت کے سوا کسی چیز پر بھروسہ نہیں کرتا، سو اسے اپنے ہاں میرے لیے ایک وعدہ بنا دے جسے تو قیامت کے دن مجھے پورا کر کے دے، بے شک تو وعدہ خلافی نہیں کرتا۔“ راوی کہتے ہیں: زکریا ابویحییٰ نے قاسم سے روایت کرتے ہوئے اس میں یہ اضافہ کیا: ”خوفزدہ، پناہ مانگنے والا، بخشش طلب کرنے والا، تیری طرف راغب ہو کر۔“