حدیث نمبر: 8882
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَيَّانَ الْمَازِنِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: " إِنَّمَا النِّسَاءُ عَوْرَةٌ، وَإِنَّ الْمَرْأَةَ لَتَخْرُجُ مِنْ بَيْتِهَا، وَمَا بِهَا مِنْ بَأْسٍ فَيَسْتَشْرِفُ لَهَا الشَّيْطَانُ، فَيَقُولُ: إِنَّكِ لَا تَمُرِّينَ بِأَحَدٍ إِلَّا أَعْجَبْتِهِ، وَإِنَّ الْمَرْأَةَ لَتَلْبَسُ ثِيَابَهَا، فَيُقَالُ: أَيْنَ تُرِيدِينَ؟ فَتَقُولُ: أَعُودُ مَرِيضًا، أَوْ أَشْهَدُ جِنَازَةً، أَوْ أُصَلِّي فِي مَسْجِدٍ، وَمَا عَبَدَتِ امْرَأَةٌ رَبَّهَا مِثْلَ أَنْ تَعْبُدَهُ فِي بَيْتِهَا "
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”عورت سراپا پردہ ہے، اور جب عورت اپنے گھر سے نکلتی ہے، جبکہ اسے کوئی تکلیف نہیں ہوتی، تو شیطان اسے جھانک کر دیکھتا ہے اور کہتا ہے: تو جس کے پاس سے بھی گزرے گی اسے متاثر کیے بغیر نہیں گزرے گی۔ اور عورت اپنے کپڑے پہنتی ہے تو اس سے کہا جاتا ہے: کہاں کا ارادہ ہے؟ تو وہ کہتی ہے: کسی مریض کی عیادت کے لیے، یا کسی جنازے میں شرکت کے لیے، یا مسجد میں نماز پڑھنے کے لیے جا رہی ہوں۔ حالانکہ کسی عورت نے اپنے رب کی عبادت اس طرح نہیں کی جس طرح وہ اپنے گھر میں اس کی عبادت کرے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 8882
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 185، حدیث 8914