حدیث نمبر: 876
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلَمَةَ الرَّازِيُّ، ثنا أَبُو زُهَيْرٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَغْرَاءَ، أَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ الْأَغَرِّ، أَغَرِّ مُزَيْنَةَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ لِي بِجُزْءٍ مِنْ تَمْرٍ عِنْدَ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ فَمَطَلَنِي بِهِ، فَكَلَّمْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «أغْدُ مَعَهُ يَا أَبَا بَكْرٍ فَخُذْ لَهُ تَمْرَهُ» فَوَعَدَنِي أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ الْمَسْجِدَ إِذَا صَلَّيْنَا الصُّبْحَ، فَوَجَدْتُهُ حَيْثُ وَعَدَنِي، فَانْطَلَقْنَا، فَكُلَّمَا رَأَى أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ مِنْ بَعِيدٍ سَلَّمَ عَلَيْهِ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَمَا تَرَى مَا يُصِيبُ الْقَوْمُ عَلَيْكَ مِنَ الْفَضْلِ، لَا يَسْبِقْكَ إِلَى السَّلَامِ أَحَدٌ، فَكُنَّا إِذَا طَلَعَ الرَّجُلُ بَادَرْنَاهُ بِالسَّلَامِ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ عَلَيْنَا
ترجمہ

سیدنا اغر مزنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے میرے لیے انصار کے ایک شخص کے پاس کچھ کھجوریں مقرر فرمائیں، مگر وہ مجھے ٹالتا رہا، تو میں نے رسول اللہ ﷺ سے شکایت کی، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے ابوبکر! کل صبح اس کے ساتھ جاؤ اور اس کی کھجوریں لے کر دو۔“ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فجر کی نماز کے بعد مسجد میں ملنے کا وعدہ کیا، میں نے انہیں وہیں پایا جہاں انہوں نے وعدہ کیا تھا، ہم روانہ ہوئے، تو جب بھی کوئی شخص دور سے سیدنا ابوبکر کو دیکھتا وہ انہیں سلام کرتا، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”کیا تم نہیں دیکھتے لوگوں کو تمہاری وجہ سے کتنا اجر مل رہا ہے؟ کوئی شخص تم سے پہلے سلام نہ کرنے پائے۔“ چنانچہ جب بھی کوئی شخص نظر آتا ہم اس کے سلام کرنے سے پہلے ہی اسے سلام کر لیتے۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الألف / حدیث: 876
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 300، حدیث 880