حدیث نمبر: 875
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي أَخِي، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَتِيقٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ الْأَغَرَّ وَهُوَ رَجُلٌ مِنْ مُزَيْنَةَ، كَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَتْ لَهُ أَوْسُقٌ مِنْ تَمْرٍ عَلَى رَجُلٍ مِنْ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ فَاخْتَلَفَ إِلَيْهِ مِرَارًا، قَالَ: «فَجِئْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَرْسَلَ مَعِي أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ» قَالَ: وَكُلُّ مَنْ لَقِينَا سَلَّمُوا عَلَيْنَا، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَلَا أَرَى النَّاسَ يَبْدَأُونَكَ بِالسَّلَامِ فَيَكُونَ لَهُمُ الْأَجْرُ، فَابْدَأْهُمْ بِالسَّلَامِ يَكُنْ لَكَ الْأَجْرُ "
ترجمہ

سیدنا اغر رضی اللہ عنہ - جو مزینہ قبیلے کے ایک صحابی تھے - فرماتے ہیں: ان کے کچھ کھجوروں کے وسق بنو عمرو بن عوف کے ایک شخص کے ذمے تھے، وہ کئی بار اس کے پاس گئے، تو کہتے ہیں: ”میں نبی کریم ﷺ کے پاس آیا، تو آپ ﷺ نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو میرے ساتھ بھیجا۔“ راستے میں جو بھی ہم سے ملتا وہ ہمیں سلام کرتا، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”کیا تم نہیں دیکھتے کہ لوگ تمہیں پہلے سلام کرتے ہیں تو انہیں اجر ملتا ہے؟ تم انہیں پہلے سلام کیا کرو تاکہ تمہیں اجر ملے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الألف / حدیث: 875
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 300، حدیث 879