المعجم الكبير للطبراني
باب الألف— حرف الف سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
أكثم بن أبي الجون باب: سیدنا اکثم بن ابی الجون رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الرَّازِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَلِيٍّ الْأَنْصَارِيُّ، ثنا ضَمْرَةُ بْنُ رَبِيعَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَوْذَبٍ، عَنْ أَبِي نَهِيكٍ، عَنْ شِبْلِ بْنِ خُلَيْدٍ الْمُزَنِيِّ، عَنْ أَكْثَمَ بْنِ أَبِي الْجَوْنٍ، قَالَ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ، فُلَانٌ يَجْرِي فِي الْقِتَالِ؟ قَالَ: «هُوَ فِي النَّارِ» قَالَ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ، إِذَا كَانَ فُلَانٌ فِي عِبَادَتِهِ وَاجْتِهَادِهِ وَلِينِ جَانِبِهِ فِي النَّارِ، فَأَيْنَ نَحْنُ؟ قَالَ: «إِنَّمَا ذَلِكَ إِخْبَاتُ النِّفَاقِ، وَهُوَ فِي النَّارِ» قَالَ: كُنَّا نَتَحَفَّظُ عَلَيْهِ فِي الْقِتَالِ، كَانَ لَا يَمُرُّ بِهِ فَارِسٌ، وَلَا رَاجِلٌ إِلَّا وَثَبَ عَلَيْهِ، فَكَثُرَ عَلَيْهِ جِرَاحُهُ، فَأَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ، اسْتُشْهِدَ فُلَانٌ، قَالَ: «هُوَ فِي النَّارِ» فَلَمَّا اشْتَدَّ بِهِ أَلَمُ الْجِرَاحِ أَخَذَ سَيْفَهُ فَوَضَعَهُ بَيْنَ ثَدْيَيْهِ، ثُمَّ اتَّكَأَ عَلَيْهِ حَتَّى خَرَجَ مِنْ ظَهْرِهِ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: أَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ اللهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ، وَإِنَّهُ لِمَنْ أَهْلِ النَّارِ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ، وَإِنَّهُ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ تُدْرِكُهُ الشِّقْوَةُ أَوِ السَّعَادَةُ عِنْدَ خُرُوجِ نَفْسِهِ، فَيُخْتَمُ لَهُ بِهَا»راوی بیان کرتے ہیں: ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! فلاں شخص لڑائی میں بہت پیش پیش رہتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ جہنمی ہے۔“ ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! جب فلاں شخص اپنی عبادت، محنت اور نرم مزاجی کے باوجود جہنمی ہے، تو ہم کہاں ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ محض منافقت کی عاجزی ہے، اور وہ جہنمی ہے۔“ راوی کہتے ہیں: ہم اسے جنگ میں دیکھتے رہتے تھے، کوئی سوار یا پیدل اس کے پاس سے نہ گزرتا مگر وہ اس پر جھپٹ پڑتا، یہاں تک کہ اس کے زخم بہت زیادہ ہو گئے۔ ہم نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! فلاں شہید ہو گیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ جہنمی ہے۔“ جب زخموں کی تکلیف شدید ہوئی تو اس نے اپنی تلوار لے کر اپنے سینے کے درمیان رکھی، پھر اس پر ٹیک لگا دی یہاں تک کہ وہ اس کی پیٹھ سے نکل گئی۔ میں نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا: میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بےشک آدمی جنت والوں کے عمل کرتا ہے حالانکہ وہ جہنمیوں میں سے ہوتا ہے، اور بےشک آدمی جہنمیوں کے عمل کرتا ہے حالانکہ وہ جنتیوں میں سے ہوتا ہے، بدبختی یا نیک بختی اسے اس کی جان نکلتے وقت آ لیتی ہے، اور اسی پر اس کا خاتمہ ہوتا ہے۔“