حدیث نمبر: 8668
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ مَعْقِلٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ، يَقُولُ: «إِنَّ أَوَّلَ مَا تَفْقِدُونَ مِنْ دِينِكُمُ الْأَمَانَةَ، وَآخَرَ مَا يَبْقَى مِنْ دِينِكُمُ الصَّلَاةُ، وَلَيُصَلِّيَنَّ قَوْمٌ لَا دِينَ لَهُمْ، وَلَيُنْتَزَعَنَّ الْقُرْآنُ مِنْ بَيْنِ أَظْهُرِكُمْ» ، قَالُوا: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَلَسْنَا نَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَقَدْ أَثْبَتْنَاهُ فِي مَصَاحِفِنَا؟ قَالَ: «يُسْرَى عَلَى الْقُرْآنِ لَيْلًا فَيُذْهَبُ بِهِ مِنْ أَجْوَافِ الرِّجَالِ فَلَا يَبْقَى فِي الْأَرْضِ مِنْهُ شَيْءٌ»
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”سب سے پہلے تم اپنے دین سے جو چیز کھو دو گے وہ امانت ہے، اور تمہارے دین سے سب سے آخر میں باقی رہنے والی چیز نماز ہے، اور ایسے لوگ بھی نماز پڑھیں گے جن کے پاس دین نہیں ہو گا، اور قرآن تمہارے درمیان سے ضرور اٹھا لیا جائے گا۔“ صحابہ نے عرض کیا: اے ابوعبدالرحمٰن! کیا ہم قرآن نہیں پڑھتے رہیں گے جبکہ ہم نے اسے اپنے مصاحف میں لکھ رکھا ہے؟ فرمایا: ”قرآن کو رات کو اٹھا لیا جائے گا اور اسے لوگوں کے سینوں سے لے جایا جائے گا، پھر زمین میں اس میں سے کچھ باقی نہیں رہے گا۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 8668
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 141، حدیث 8700