المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
باب (أحاديث 8564–9729) باب: (احادیث 8564 تا 9729)
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْمُسَيِّبِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ مَعْقِلٍ، قَالَ الثَّوْرِيُّ: وَحَدَّثَنِيهِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ رُفَيْعٍ، عَنْ شَدَّادٍ، أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ، قَالَ: «لَيُنْتَزَعَنَّ هَذَا الْقُرْآنُ مِنْ بَيْنِ أَظْهُرِكُمْ» ، قُلْتُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، كَيْفَ يُنْتَزَعُ وَقَدْ أَثْبَتْنَاهُ فِي مَصَاحِفِنَا؟ قَالَ: «يُسْرَى عَلَيْهِ فِي لَيْلَةٍ فَلَا يَبْقَى فِي قَلْبِ عَبْدٍ وَلَا مُصْحَفٍ مِنْهُ شَيْءٌ، وَيُصْبِحُ النَّاسُ فُقَرَاءَ كَالْبَهَائِمِ» ، ثُمَّ قَرَأَ عَبْدُ اللهِ: {وَلَئِنْ شِئْنَا لَنَذْهَبَنَّ بِالَّذِي أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ ثُمَّ لَا تَجِدُ لَكَ بِهِ عَلَيْنَا وَكِيلًا} [الإسراء: ٨٦]… سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہ قرآن تمہارے درمیان سے ضرور اٹھا لیا جائے گا۔“ راوی کہتے ہیں: میں نے کہا: اے ابوعبدالرحمٰن! یہ کیسے اٹھایا جائے گا جبکہ ہم نے اسے اپنے مصاحف میں لکھ رکھا ہے؟ فرمایا: ”ایک رات میں اسے اٹھا لیا جائے گا، پھر نہ کسی بندے کے دل میں اور نہ کسی مصحف میں اس میں سے کچھ باقی رہے گا، اور لوگ صبح اس طرح فقیر ہو جائیں گے جیسے چوپائے۔“ پھر سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھی: ”اور اگر ہم چاہتے تو جو کچھ ہم نے تمہاری طرف وحی کیا ہے وہ ضرور لے جاتے، پھر تم اپنے لیے اس کے بارے میں ہمارے خلاف کوئی وکیل نہ پاتے“ [سورۃ الاسراء: 86]۔