حدیث نمبر: 8585
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَوْنٍ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ أَبِي عِمْرَانَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، قَالَ: مَا أَخْطَأَنِي عَشِيَّةَ خَمِيسٍ إِلَّا آتِي عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ فِيهَا، فَمَا سَمِعْتُهُ بِشَيْءٍ قَطُّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى إِذَا كَانَ ذَاتَ عَشِيَّةٍ، قَالَ: «سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» ، ثُمَّ نَكَسَ فَرَفَعَ رَأْسَهُ، فَرَأَيْتُهُ مَحْلُولَ أَزْرَارِ قَمِيصِهِ، قَدِ انْتَفَخَتْ أَوْدَاجُهُ، وَاغْرَوْرَقَتْ عَيْنَاهُ، فَقَالَ: «أَوْ فَوْقَ ذَلِكَ، أَوْ دُونَ ذَلِكَ، أَوْ قَرِيبٌ مِنْ ذَلِكَ، أَوْ شِبْهُ ذَلِكَ»
ترجمہ

راوی بیان کرتے ہیں: مجھ سے کوئی جمعرات کی شام ایسی نہیں گزرتی تھی جس میں، میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس نہ آتا ہوں، اور میں نے انہیں کبھی یہ کہتے نہیں سنا: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، یہاں تک کہ ایک شام انہوں نے فرمایا: ”میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا“، پھر سر جھکا لیا، پھر سر اٹھایا تو میں نے دیکھا کہ ان کی قمیص کے بٹن کھلے ہوئے ہیں، ان کی گردن کی رگیں پھول گئی ہیں اور آنکھیں آنسوؤں سے بھر آئی ہیں، پھر فرمایا: ”یا اس سے کچھ زیادہ، یا اس سے کچھ کم، یا اس کے قریب، یا اس جیسا۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 8585
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 123، حدیث 8617