حدیث نمبر: 8575
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا مَعْمَرُ بْنُ سَهْلٍ، حَدَّثَنَا عَامِرُ بْنُ مُدْرِكٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: «مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَلْقَى اللهَ غَدًا مُسْلِمًا فَلْيُحَافِظْ عَلَى هَؤُلَاءِ الصَّلَوَاتِ الْمَكْتُوبَاتِ حَيْثُ يُنَادَى بِهِنَّ، فَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ شَرَعَ لِنَبِيِّكُمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُنَنَ الْهُدَى، وَهُنَّ مِنْ سُنَنِ الْهُدَى، وَلَوْ صَلَّيْتُمْ فِي بُيُوتِكُمْ كَمَا يُصَلِّي هَذَا الْمُتَخَلِّفُ عَنْهَا لَتَرَكْتُمْ سُنَّةَ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَوْ تَرَكْتُمْ سُنَّةَ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَضَلَلْتُمْ، وَلَقَدْ رَأَيْتُنَا وَمَا يَتَخَلَّفُ عَنْهَا إِلَّا مُنَافِقٌ مَعْلُومٌ نِفَاقُهُ، وَلَقَدْ رَأَيْتُ الرَّجُلَ مِنَّا يُهَادَى بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ حَتَّى يُقَامَ فِي الصَّفِّ، وَمَا مِنْ عَبْدٍ مُسْلِمٍ يَتَوَضَّأُ فِي بَيْتِهِ فَيُحْسِنُ الْوُضُوءَ ثُمَّ يَعْمِدُ إِلَى مَسْجِدٍ فَيَأْتِيهِ فَيَرْفَعُ قَدَمًا وَيَضَعُ قَدَمًا إِلَّا كَتَبَ اللهُ لَهُ بِهَا عَشْرَ حَسَنَاتٍ وَمَحَا عَنْهُ عَشْرَ سَيِّئَاتٍ وَرَفَعَ لَهُ بِهَا عَشْرَ دَرَجَاتٍ حَتَّى إِنْ كُنَّا لَنُقَارِبُ بَيْنَ الْخُطَا»
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”جسے یہ بات خوش کرتی ہو کہ وہ کل اللہ سے مسلمان کی حیثیت سے ملے تو وہ ان فرض نمازوں کی حفاظت کرے جہاں ان کے لیے اذان دی جاتی ہے، کیونکہ اللہ عزوجل نے تمہارے نبی ﷺ کے لیے ہدایت کے یہی طریقے مقرر فرمائے ہیں، اور یہ ہدایت کے طریقے ہیں۔ اور اگر تم اپنے گھروں میں اسی طرح نماز پڑھنے لگو جیسے یہ پیچھے رہ جانے والا پڑھتا ہے تو تم اپنے نبی ﷺ کی سنت چھوڑ دو گے، اور اگر تم اپنے نبی ﷺ کی سنت چھوڑ دو گے تو گمراہ ہو جاؤ گے۔ میں نے تو ہمیں اس حال میں دیکھا ہے کہ جماعت سے پیچھے نہیں رہتا تھا مگر وہ منافق جس کا نفاق معلوم تھا۔ اور میں نے ہم میں سے کسی آدمی کو دیکھا ہے کہ اسے دو آدمیوں کے سہارے چلا کر صف میں لا کھڑا کیا جاتا۔ اور کوئی مسلمان بندہ ایسا نہیں جو اپنے گھر میں وضو کرے اور اچھی طرح وضو کرے، پھر مسجد کی طرف چلے اور وہاں پہنچے، اور جب بھی وہ ایک قدم اٹھائے اور دوسرا رکھے تو اللہ اس کے سبب اس کے لیے دس نیکیاں لکھتا ہے، اس کے دس گناہ مٹاتا ہے اور اسے دس درجے بلند کرتا ہے، حتیٰ کہ ہم قدموں کو ملا ملا کر چلتے تھے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 8575
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 120، حدیث 8607