المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
باب (أحاديث 8564–9729) باب: (احادیث 8564 تا 9729)
حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَلْطِيُّ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا أَبُو الْعُمَيْسِ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ الْأَقْمَرِ، يَذْكُرُ عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ: «مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَلْقَى اللهَ غَدًا مُسْلِمًا فَلْيُحَافِظْ عَلَى هَؤُلَاءِ الصَّلَوَاتِ حَيْثُ يُنَادَى بِهِنَّ، فَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ شَرَعَ لِنَبِيِّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُنَنَ الْهُدَى، فَإِنَّهُنَّ مِنْ سُنَنِ الْهُدَى، وَلَوْ أَنَّكُمْ صَلَّيْتُمْ فِي بُيُوتِكُمْ كَمَا صَلَّى هَذَا الْمُتَخَلِّفُ فِي بَيْتِهِ تَرَكْتُمْ سُنَّةَ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَوْ تَرَكْتُمْ سُنَّةَ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَضَلَلْتُمْ، وَمَا مِنْ رَجُلٍ تَطَهَّرَ فَيُحْسِنُ الطُّهُورَ ثُمَّ يَعْمِدُ إِلَى مَسْجِدٍ مِنْ هَذِهِ الْمَسَاجِدِ إِلَّا كَتَبَ اللهُ لَهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ يَخْطُوهَا حَسَنَةً، وَرَفَعَهُ بِهَا دَرَجَةً وَحَطَّ عَنْهُ بِهَا سَيِّئَةً، وَلَقَدْ رَأَيْتُنَا وَمَا يَتَخَلَّفُ عَنْهَا إِلَّا مُنَافِقٌ مَعْلُومُ النِّفَاقِ، وَإِنْ كَانَ الرَّجُلُ يُهَادَى بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ حَتَّى يُقَامَ فِي الصَّفِّ»سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”جسے یہ بات خوش کرتی ہو کہ وہ کل اللہ سے مسلمان کی حیثیت سے ملے تو وہ ان نمازوں کی حفاظت کرے جہاں ان کے لیے اذان دی جاتی ہے، کیونکہ اللہ عزوجل نے اپنے نبی ﷺ کے لیے ہدایت کے یہی طریقے مقرر فرمائے ہیں، اور یہ ہدایت کے طریقے ہیں۔ اگر تم اپنے گھروں میں اسی طرح نماز پڑھتے جیسے یہ پیچھے رہ جانے والا اپنے گھر میں پڑھتا ہے تو تم اپنے نبی ﷺ کی سنت چھوڑ دیتے، اور اگر تم اپنے نبی ﷺ کی سنت چھوڑ دیتے تو گمراہ ہو جاتے۔ اور کوئی شخص ایسا نہیں جو طہارت کرے اور اچھی طرح طہارت کرے، پھر ان مسجدوں میں سے کسی کی طرف قصد کرے، مگر اللہ اس کے ہر اٹھائے گئے قدم پر اس کے لیے ایک نیکی لکھ دیتا ہے، اسے ایک درجہ بلند کرتا ہے اور اس کی ایک برائی مٹا دیتا ہے۔ میں نے تو ہمیں اس حال میں دیکھا ہے کہ جماعت سے پیچھے نہیں رہتا تھا مگر وہ منافق جس کا نفاق معلوم تھا، اور آدمی کو دو آدمیوں کے سہارے چلایا جاتا یہاں تک کہ اسے صف میں لا کھڑا کیا جاتا۔“