المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
خطبة ابن مسعود، ومن كلامه باب: سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا خطبہ، اور ان کا کلام
حدیث نمبر: 8551
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: «إِنَّ اللهَ تَعَالَى نَظَرَ فِي قُلُوبِ الْعِبَادِ فَاخْتَارَ مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَعَثَهُ بِرِسَالَتِهِ، وَانْتَخَبَهُ بِعِلْمِهِ، ثُمَّ نَظَرَ فِي قُلُوبِ النَّاسِ فَاخْتَارَ أَصْحَابَهُ فَجَعَلَهُمْ وُزَرَاءَ نَبِيِّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وأنصارَ دِينِهِ، فَمَا رَآهُ الْمُؤْمِنُونَ حَسَنًا فَهُوَ عِنْدَ اللهِ حَسَنٌ، وَمَا رَآهُ الْمُؤْمِنُونَ قَبِيحًا فَهُوَ عِنْدَ اللهِ قَبِيحٌ»ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”بے شک اللہ تعالیٰ نے بندوں کے دلوں میں نظر ڈالی تو محمد ﷺ کو چن لیا، پس انہیں اپنے پیغام کے ساتھ بھیجا اور انہیں اپنے علم سے منتخب فرمایا، پھر لوگوں کے دلوں میں نظر ڈالی تو ان کے صحابہ کو چن لیا، اور انہیں اپنے نبی ﷺ کا وزیر اور اپنے دین کا مددگار بنا دیا۔ تو جسے مومن اچھا سمجھیں وہ اللہ کے نزدیک بھی اچھا ہے، اور جسے مومن برا سمجھیں وہ اللہ کے نزدیک بھی برا ہے۔“