حدیث نمبر: 8530
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ: «إِنَّ الرَّجُلَ لَيَخْرُجُ وَمَعَهُ دِينُهُ، فَيَرْجِعُ وَمَا مَعَهُ مِنْهُ شَيْءٌ، يَأْتِي الرَّجُلَ لَا يَمْلِكُ لَهُ، وَلَا لِنَفْسِهِ نَفْعًا وَلَا ضَرًّا، فَيُقْسِمُ لَهُ بِاللهِ إِنَّكَ كَذَبْتَ وَأَذْنَبْتَ فَيَرْجِعُ مَا حُلِّيَ مِنْ حَاجَتِهِ بِشَيْءٍ، وَقَدْ أَسْخَطَ اللهَ عَلَيْهِ»
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”آدمی اپنا دین ساتھ لے کر نکلتا ہے، پھر اس حال میں واپس آتا ہے کہ اس کے پاس اس میں سے کچھ نہیں بچا۔ وہ ایسے شخص کے پاس جاتا ہے جو نہ اس کے لیے اور نہ خود اپنے لیے نفع و نقصان کا مالک ہے، اور اس کے سامنے اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہے: تم جھوٹے اور گناہ گار ہو، چنانچہ وہ اپنی ضرورت میں سے کچھ حاصل کیے بغیر ہی واپس آتا ہے، جبکہ اس (جھوٹی قسم) کی وجہ سے اللہ اس پر ناراض ہو چکا ہوتا ہے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 8530
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 107، حدیث 8562